خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 393 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 393

خطبات طاہر جلد۴ 393 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۸۵ء شدید مقدر ہے ۔ لیکن بدبختی سے کچھ ایسے لوگ بھی پیدا ہوتے ہیں ۔ الَّذِينَ يَسْتَحِبُّونَ الْحَيُوةَ الدُّنْيَا عَلَى الْآخِرَةِ وہ آخرت کی زندگی پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دینے لگتے ہیں اور صرف یہی نہیں کہ اپنے لئے ترجیح دیتے ہیں بلکہ دوسروں کی راہ بھی روکتے ہیں تا کہ وہ ہدایت کی پیروی نہ کریں ۔ وہ راہیں روک کر بیٹھ جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی راہوں کو ٹیڑھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی افتاد طبع کی طرح اللہ کی راہ ٹیڑھی ہو جائے اور لوگ ان کے خیالات کی پیروی کریں نہ کہ اللہ کے احکام کی ۔ فرمایا: اولیكَ فِي ضَلَلٍ بَعِيدٍ یہ لوگ بہت دور کی گمراہی میں ہیں ۔ ضللٍ بَعِیدِ میں اس طرف بھی اشارہ فرمایا کہ اس قسم کی ٹیڑھی سوچوں والے پھر نجات پایا نہیں کرتے ، ان کا نجات پانا ایک بہت دور کی بات ہوتی ہے۔ یہ سیدھی راہ سے بھٹکتے بھٹکتے اتنا دور نکل گئے ہیں کہ ان کے لئے واپس آنے کا وقت نہیں رہا۔ یعنی آئمۃ التکفیر جن کی بات ہو رہی ہے ان کو آواز دینا تو فرض ہے اور ہدایت کی طرف بلانا تو ضروری ہے لیکن بعض بد بخت اور بد قسمت لوگ جو آئمۃ التکفیر کہلاتے ہیں وہ ضلال بعید میں مبتلا ہوتے ہیں اور گمراہی میں اتنے دور نکل چکے ہوتے ہیں کہ ان کی واپسی کی امید بہت تھوڑی رکھی جاسکتی ہے۔ ہبی لحاظ سے اندھیروں سے نکا سے نکال کر نور کی طرف لانے کا یہی وہ کام تھا جو آ کام تھا جو آنحضرت عالی صلى الله علوسه کی غلامی میں حضرت مہدی علیہ السلام کو سونپا جانا تھا اور یہ کام آپ کے لئے مقدر تھا۔ چنانچہ آنحضرت مال رت علی نے آپ کے منہ عروس پ کے متعلق فرمایا کہ وہ حکم و عدل ہوگا ، وہ ایسے وقت میں آئے گا جب کہ دین میں ٹیڑھی راہیں تجویز ہو چکی ہوں گی ، خدا تعالیٰ کی جاری کردہ راہ میں کئی اور راہیں نکال لی جائیں گی اور مذہب اسلام کو پارہ پارہ کر دیا گیا ہوگا ، اختلافات حد سے زیادہ بڑھ چکے ہوں گے۔ اس وقت امام مہدی پیدا ہوں گے جو لوگوں کو اندھیروں سے نور کی طرف نکال لائیں گے۔ چنانچہ امام مہدی کے متعلق اس مضمون کو احادیث میں حکم و عدل کے عنوان کے تحت بیان کیا گیا ہے ۔ کیونکہ ظاہر ہے اختلافات پیدا ہوں گے تو وہ حکم بن کر آئے گا، ایک دوسرے سے معاملات میں جو روستم ہوں گے تو وہ عدل بن کر آئے گا ۔ پس دنیا میں جب اختلافات بڑھ جانے تھے تو امام مہدی نے آکر اختلافات مٹانے کے لئے فیصلے کرنے تھے اور اسلام کے متعلق بگڑے ہوئے تصورات کے متعلق فیصلے دینے تھے کہ اصل صورت کیا ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جس کو بیان