خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 365 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 365

خطبات طاہر جلد ۴ 365 خطبه جمعه ۱۹ اپریل ۱۹۸۵ء دیا گیا کہ نعوذ بالله من ذلک یہ سارے گندے الفاظ اس میں بیان ہوئے ہوں۔ اب پرویزی اور چکڑالوی رہ جاتے ہیں ان کے متعلق سنئے کہ بریلوی ، دیو بندی اور مودودی ان کے خلاف کیا فتویٰ صادر کرتے ہیں۔ لکھا ہے : دو چکڑالویت حضور سرور کائنات علیہ التسلیمات کے منصب و مقام اور آپ کی تشریعی حیثیت کی منکر اور آپ کی احادیث مبارکہ کی جانی دشمن ہے۔ رسول کریم کے ان کھلے ہوئے باغیوں نے رسول کے خلاف ایک مضبوط محاذ قائم کر دیا ہے۔ جانتے ہو ! باغی کی سزا کیا ہے؟ صرف گولی ۔“ (ہفت روزہ رضوان لاہور چکڑالویت نمبر ۲۱-۲۸ فروری ۱۹۵۳ء صفحه ۳) پھر ولی حسن صاحب ٹونکی پر ویزیوں پر صادر ہونے والے شرعی احکامات ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں : غلام احمد پرویز شریعت محمدیہ کی رو سے کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ۔ نہ اس کے عقد نکاح میں کوئی مسلمان عورت رہ سکتی ہے اور نہ کسی مسلمان عورت کا نکاح اس سے ہو سکتا ہے۔ نہ اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی نہ مسلمانوں کے قبرستان میں اس کا دفن کرنا جائز ہوگا۔ اور یہ حکم صرف پرویز ہی کا نہیں بلکہ ہر کافر کا ہے۔ اور ہر وہ شخص جو اس کے متبعین میں ان عقائد کفریہ کے ہم نوا ہو اس کا بھی یہی حکم ہے اور جب یہ مرتد ٹھہرا تو پھر اس کے ساتھ کسی قسم کے بھی اسلامی تعلقات رکھنا شرعاً جائز نہیں ہیں ۔ 66 ولی حسن ٹونکی مفتی و مدرس و محمد یوسف بنوری شیخ الحدیث مدرسہ عربیہ اسلامیہ ٹاؤن کراچی ) ان کے متعلق مولوی امین احسن اصلاحی کا فتوی بھی سن لیجئے جو پہلے مودودی مسلک رکھتے تھے۔ لکھا ہے: اگر یہ مشورہ دینے والوں کا مطلب یہ ہے کہ شریعت صرف اتنی ہی ہے جتنی قرآن میں ہے، باقی اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ شریعت نہیں ہے تو یہ صریح کفر ہے اور بالکل اسی طرح کا کفر ہے جس طرح کا کفر قادیانیوں کا ہے