خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 360 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 360

خطبات طاہر جلد ۴ 360 خطبہ جمعہ ۱۹ را پریل ۱۹۸۵ء جو تعلقات منقطع کئے وہ سنئے لکھا ہے : دو مسلمانوں کو چاہئے کہ ان سے بالکل ہی محترز و مجتنب رہیں ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا تو ذکر ہی کیا اپنے پیچھے بھی ان کو نماز نہ پڑھنے دیں۔“ (ايضاً ) سے اب دیکھیں جماعت احمد یہ نے تو کبھی بھی یہ تعلیم نہیں دی ہم تو کہتے ہیں تعلقات رکھو ایک دوسرے سے ملو اور ہر قسم کے روابط استوار کرو۔ محبت و پیار پیش آؤ۔ خدمت بجالاؤ۔ اور جماعت کی تاریخ بتاتی ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ جماعت کا ہمیشہ یہی سلوک رہا ہے ۔ ہاں پیچھے نماز نہیں پڑھنی۔ کیوں نہیں پڑھنی اس کی وجوہات ہیں ایک تو وہ وجہ ہے جس کو میں پہلے بیان کر چکا ہوں کچھ اور بھی وجوہات ہیں جن کا میں بیان کروں گا لیکن اپنے پیچھے نماز پڑھنے سے کبھی نہیں روکا۔ آج تک کبھی اشارہ یا کنایہ بھی جماعت کی طرف سے اس قسم کا کوئی واقعہ قسم ثابت نہیں ہوا نہ مسجدوں سے کسی کو محروم کیا گیا۔ ہم تو اپنی مسجدوں میں خود بلاتے ہیں ، ان کو دعوتیں دیتے ہیں اور اجازت دیتے ہیں کہ اگر ہمارے پیچھے نماز نہیں پڑھنی تو تم خود شوق سے جس طرح چاہو ہماری مسجد میں خود نماز پڑھ لو، بے شک با جماعت نماز پڑھ لو۔ چنانچہ ایسے واقعات آئے دن ربوہ میں رونما ہوتے تھے۔ سوال و جواب کے لئے غیر احمدی دوست جب ربوہ تشریف لاتے تھے تو مسجد مبارک میں بھی بعض اوقات دو نمازیں ہوتی تھیں ۔ ایک ہماری نماز اور دوسری غیر احمدی دو دوستوں کی ۔ ان سے یہ کہا جاتا تھا کہ آپ بے شک شوق سے نماز پڑھیں ۔ چنانچہ وہ اپنی نماز الگ پڑھ لیتے تھے۔ کبھی کسی نے نہیں روکا لیکن فتوی زیر نظر میں لکھا ہے : ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا تو ذکر ہی کیا اپنے پیچھے بھی ان کو نماز نہ پڑھنے دیں ۔ اور نہ اپنی مسجدوں میں گھسنے دیں۔ نہ ان کا ذبیحہ کھائیں اور نہ ان کی شادی غمی میں شریک ہوں ۔ (ایضاً) ان میں سے کون سے تعلقات ہیں جو احمدیوں نے توڑے ہیں۔ اس فتویٰ کے باوجود احمدیوں نے نہیں توڑے کیونکہ جماعت احمدیہ کا یہ مسلک نہیں ہے۔ یہ فتوی آگے چلتا ہے۔ لکھا ہے: