خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 357
خطبات طاہر جلد ۴ 357 خطبه جمعه ۱۹ راپریل ۱۹۸۵ء دی تھی کہ فلاں فلاں لوگ ایمان نہیں لائے ۔ یعنی خدا فرماتا ہے اے رسول! تمہیں بھی حق نہیں کہ ان کو مسلمان کہنے سے روکو یا یہ مطالبہ ہی کرو بلکہ یہ بھی حق نہیں کہ ان کو مومن کہنے سے روکو یا اس کا مطالبہ کرو۔ ان شرائط اور ان حدود کے اندر تاریخ نے یا سنت نبوی نے اس آیہ کریمہ پر جو روشنی ڈالی ہے اس کے مطابق کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ کسی کو غیر مسلم کہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اپنے مخالفین کے لئے کہیں غیر مسلم کا لفظ استعمال نہیں فرمایا البتہ جہاں تک ایک مسلمان کو کافر لئے ٹھہرانے کا تعلق ہے آپؐ نے فرمایا: وو یہ ایک شریعت کا مسئلہ ہے کہ مومن کو کافر کہنے والا آخر کا فر ہو جاتا ہے۔ پھر جب کہ وہ سومولوی نے مجھے کا فرٹھیرایا اور میرے پر کفر کا فتویٰ لکھا گیا اور انہیں کے فتوی سے یہ بات ثابت ہے کہ مومن کو کافر کہنے والا کا فر ہو جاتا ہے اور کافر کو مومن کہنے والا بھی کافر ہو جاتا ہے“ (حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۶۸) یعنی تو پھر اب میں کیسے رک سکتا ہوں اس فتوی سے جو مخالفین کے پیدا کردہ حالات کا طبعی صلى الله نتیجہ ہے ۔ چنانچہ آپ نے آنحضرت ﷺ کی اس حدیث کا حوالہ دیا جس کا میں ذکر کر چکا ہوں ۔ آپ فرماتے ہیں: صلى الله آنحضور ﷺ کا یہ ارشاد ہے۔ ایما رجل مسلم اکفر رجلا مسلما فان کان کا فرا والا كان هو الكافر " (ابوداود کتاب السنة حدیث نمبر : ۴۰۶۷) کہ جب کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو کا فرٹھہرائے تو وہ خود کا فر ہو جاتا ہے۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : ہم کسی کلمہ گو کو اسلام سے خارج نہیں کہتے“ دیکھیں کیسا مربوط مسلک ہے اس میں کوئی تضاد نہیں ہے مسلسل بنا ہے قرآن کریم کے ایک صلى الله فرمان پر اور حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے ارشاد پر اور اسی دائرہ کے اندر یہ مہذبانہ فتوی دیا جا رہا ہے فرماتے ہیں ۔