خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 345
خطبات طاہر جلد ۴ 345 خطبہ جمعہ ۱۲ اپریل ۱۹۸۵ء خدا تعالیٰ کے فضل سے اس میدان میں میری ہی فتح ہے اور جہاں تک میں دور بین نظر سے کام لیتا ہوں تمام دنیا اپنی سچائی کے تحت اقدام دیکھتا ہوں ۔“ 66 یہ وہ تحریر ہے جو ان کی نظر میں پھپھی ہے ۔ اب آگے سنئے اس کلام کی شان اور شوکت جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ کلام ہی بالکل نرالا ہے ، عام انسانی کلام ہے ہی نہیں ۔ حقیقت میں اس خدا تعالیٰ بولتا تھا تب اس میں ایک عظیم قوت اور ایک عظیم شان پیدا ہوا کرتی تھی ۔ چنانچہ زبان سے خدان آپ فرماتے ہیں: جہاں تک میں دور بین نظر سے کام لیتا ہوں تمام دنیا اپنی سچائی کے تحت اقدام دیکھتا ہوں ۔ کیسا پیارا اور کیسا وجد آفرین فقرہ ہے۔ پھر فرمایا : اور قریب ہے کہ میں ایک عظیم الشان فتح پاؤں کیونکہ میری زبان کی تائید میں ایک اور زبان بول رہی ہے اور میرے ہاتھ کی تقویت کے لئے ایک اور ہاتھ چل رہا ہے جس کو دنیا نہیں دیکھتی مگر میں دیکھ رہا ہوں ۔ میرے رہا ۔ اندر ایک آسمانی روح بول رہی ہے جو میرے لفظ لفظ اور حرف حرف کو زندگی بخشتی ہے اور آسمان پر ایک جوش اور ابال پیدا ہوا ہے جس نے ایک پتلی کی طرح اس مشت خاک کو کھڑا کر دیا ہے۔ ہر یک وہ شخص جس پر تو بہ کا دروازہ بند نہیں عنقریب دیکھ لے گا کہ میں اپنی طرف سے نہیں ہوں ۔ کیا وہ آنکھیں بینا ہیں جو صادق کو شناخت نہیں کر سکتیں ۔ کیا وہ زندہ ہے جس کو اس آسمانی (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۰۳) صدا کا احساس نہیں ۔ 66 ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس اقتباس کے بعد اب کچھ اور کہنے کی گنجائش نہیں رہتی سوائے اس کے کہ صرف اتنا کہوں کہ ع شرم تم کو مگر نہیں آتی