خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 341
خطبات طاہر جلد ۴ 341 خطبه جمعه ۱۲ را پریل ۱۹۸۵ء مباحثہ کرتا ہے کبھی حمایت اور حقیت اسلام میں وہ بسیط کتابیں لکھتا ہے ۔ ۱۸۸۶ء میں بمقام ہوشیار پور مباحثات انہوں نے کئے ان کا لطف اب تک دلوں سے محو نہیں ہوا۔ غیر مذاہب کی تردید میں اور اسلام کی حمایت میں جو نادر کتابیں انہوں نے تصنیف کی تھیں ان کے مطالعہ سے جو وجد پیدا ہوا وہ اب تک نہیں اترا یہ مسلمان مشاہیر اور چوٹی کے علماء جو تقوی کا نام جانتے تھے ، جو انصاف پسند تھے، جن کا مذاق بہت اعلیٰ تھا ، جن کی تحریریں آج بھی سند ہیں یہ ان کے تاثرات ہیں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ ة والسلام کی تحریرات اور ان کے اثرات کے متعلق مرزا حیرت دہلوی ایڈیٹر اخبار کر زن گزٹ“ الصلوۃ یکم جون ۱۹۰۸ء کو اپنے پرچہ میں لکھتے ہیں : دو مرحوم کی وہ اعلیٰ خدمات جو اس نے آریوں اور عیسائیوں کے مقابلہ میں اسلام کی کی ہیں وہ واقعی بہت ہی تعریف کی مستحق ہیں۔ اس نے مناظرہ کا بالکل رنگ ہی بدل دیا اور جدید لٹریچر کی بنیاد ہندوستان میں قائم کر دی۔ نہ بحیثیت ایک مسلمان ہونے کے بلکہ ایک محقق ہونے کے ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ کسی بڑے سے بڑے آریہ اور بڑے سے بڑے پادری کو یہ مجال نہ تھی کہ وہ مرحوم کے مقابلہ میں زبان کھول سکتا ۔ جو بے نظیر کتابیں آریوں اور عیسائیوں کے مذاہب کی رد میں لکھی گئی ہیں اور جیسے دندان شکن جواب مخالفین اسلام کو دیئے گئے آج تک معقولیت سے ان کا جواب الجواب ہم نے تو نہیں دیکھا۔“ حکومت پاکستان کو یہی تکلیف ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام ایسی تحریریں لکھ گئے کہ جس کے نتیجہ میں آج تک نہ آریوں سے جواب بن سکانہ عیسائیوں سے جواب بنا اور مخالفین کو بھی یہ تسلیم کرنا پڑا کہ آپ نے اسلام کی مدافعت میں دندان شکن جواب دیتے ۔۔۔۔۔ اتنا بڑا خطرہ عالم اسلام کے لئے !!! وائیٹ پیپر میں لکھا ہے نعوذ باللہ من ذلک کہ آپ سوائے اس کے مخالفوں سے بد زبانی کرتے تھے آپ کی تحریرات میں اور کوئی بات ہے ہی نہیں ۔ حد ہی ہوگئی ہے۔