خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 333
خطبات طاہر جلد۴ 333 خطبه جمعه ۱۲ راپریل ۱۹۸۵ء کا دم بھرتے ہیں ۔ چنانچہ صرف یہی نہیں ایک اور موقع پر قرآن کریم فرماتا ہے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تمہیں بلاتے ہیں لِمَا يُحْيِيكُمْ (الانفال: ۲۵) تاکہ تمہیں زندہ کریں اور حضرت مسیح کے متعلق بھی آتا ہے کہ وہ مردوں کو زندہ کرتے تھے لیکن وہ حضرت مسیح (جس کی تعظیم ان کے دل میں ہے ) کے صلا علی لئے ترجمہ یہ کرتے ہیں کہ وہ ظاہری طور پر واقعہ مردوں کو زندہ کرتے تھے اور آنحضرت ا ( جن کی کوئی تعظیم ان کے دل میں نہیں ہے اور نہ اس میں دلچسپی ہے ) کی دفعہ وہ یہ ترجمہ کرتے ہیں کہ لِمَا يُحْيِيكُمْ که تا روحانی مردے زندہ ہوں ۔ صرف یہی نہیں ہر جگہ ہی وہ تفریق کر رہے ہیں وہ جھوٹ بول رہے ہیں ۔ ان کے دل میں سوائے مسیح کے اور کسی کی عظمت نہیں ہے۔ اور حضرت رسول کریم ﷺ کی عظمت کے گن گانا یا آپ کی محبت کا دعوی کرنا سب زبان کے قصے ہیں عملاً نا انصافی سے کام لیا جارہا ہے۔ ایک ہی لفظ جب رسول اکرم ﷺ کے لئے آتا ہے تو اس کے اور معنی کر دیئے جاتے ہیں۔ تو یہ ان کی عقلوں کا حال ہے، مزاج ہی بالکل اور ہے اور ان کا فہم یہ ہے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ نازل ہوگا“ سے اصلی مسیح کا آسمان سے اتر نامراد نہیں بلکہ مثیل مسیح کی آمد مراد ہے تو انہیں بہت ہنسی آتی ہے اور کہتے ہیں کہ تاویل کی بھی حد ہی ہوگئی ہے۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ مینار سے مراد بینات یعنی روشن دلائل ہیں تو انہیں بے حد ہنسی آتی ہے اور کہتے ہیں کہ انا للہ بی بھی کبھی بینات لے کر آتے ہیں ۔ پھر جب کہا جاتا ہے کہ دمشق کے مشرق سے مراد مثیل دمشق ہے تو بے حد ہنستے ہیں اور کہتے ہیں کہ مضحکہ خیزی کی تو حد ہی ہوگئی ہے اور کہتے ہیں کہ ہم ہر جگہ اصلی ترجمہ کر کے دکھائیں گے اس کے بغیر ہم نے کوئی بات نہیں ماننی ۔ مخالفین کے نزدیک یہ سارا واقعہ تو ہنسی والا ہے کہ خدا کا کوئی نبی آسمان سے لٹکتا ہوا نہ اترے بلکہ زمین پر پیدا ہوا اور بینات لے کر دلائل کے مینار پر کھڑا ہوا اور صلح کا پیغام لے کر آیا ہو اور پرانے دمشق میں نہیں بلکہ اس کے ایک مثیل شہر میں خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا جائے ۔ پس یہ ساری باتیں تو مضحکہ خیز ہیں ۔ اب سنئے ! ان کا تصور کیا ہے جو مضحکہ خیز نہیں ہے وہ کہتے ہیں کہ آسمان سے کم از کم دو ہزار سالہ ایک بوڑھا اس طرح اترے گا کہ اس نے دو زرد چادریں پہنی ہوں گی (جس طرح سادھوؤں نے پہنی ہوتی ہیں ) اور اس نے دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھا ہوا ہوگا اور وہ لٹکتا ہوا کسی وقت