خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 328 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 328

خطبات طاہر جلد۴ 328 خطبہ جمعہ ۱۲ اپریل ۱۹۸۵ء استعمال فرماتا ہے۔ اس کے علاوہ ظاہری طور پر کسی چیز کے گرنے کو بھی نازل ہونا کہا جاتا ہے۔اس سے انکار نہیں مگر کلام الہی کا ترجمہ یا کلام الہی کے معنی حاصل کرنے ہوں تو اس کی مثالوں سے ہی وہ روشن ہو سکتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں ایک آیت میں آپ کے سامنے لفظ ” نزول کے بارہ میں رکھتا ہوں اور پھر اس پر ان کے مسلک کا اطلاق کر کے دکھاتا ہوں کہ اگر جماعت احمدیہ کی تاویل کو نہ مانا جائے اور اسے مضحکہ خیز قرار دیا جائے تو ان کی تاویل کی رو سے اس آیت کا ترجمہ کیا ہوگا ؟ یہ آپ خود دیکھ لیجئے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يُبَنِي آدَمَ قَدْ أَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِى سَوَاتِكُمْ وَرِيْشًا وَلِبَاسُ التَّقْوَى ذَلِكَ خَيْرٌ ذَلِكَ مِنْ آيَتِ اللَّهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ (الاعراف: ۲۷) مخالفین کے نزدیک جماعت احمدیہ کی مضحکہ خیز تاویل کی رو سے اس آیت کا یہ ترجمہ بنے گا کہ اے آدم کے بیٹو! ہم نے تمہیں ایک لباس عطا کیا ہے جو تمہاری برائیوں کو ڈھانپتا ہے اور لِبَاسُ التَّقْوى بہر حال بہتر لباس ہے ذلِكَ مِنْ آیت الله یہ اللہ تعالیٰ کی آیات میں سے سے ہے لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔ لباس تو آسمان سے نہیں اتر تا لباس نہ تر تا لباس تو زمین پیدا ہوتا ہے اور ہم خود بناتے ہیں ۔ بقول ان کے یہ تاویل مضحکہ خیز ہے کیونکہ لفظی ترجمہ نہیں کیا گیا۔ اس آیت کی دیگر علماء کے نزدیک غیر مضحکہ خیز تاویل یہ ہوگی کہ اے آدم کے بیٹو! تم دیکھتے نہیں کہ ہمیشہ تمہارے سارے لباس آسمان سے گرتے ہیں کبھی کرتوں کی بارش ہوتی ہے، کبھی شلواروں کی بارش ہورہی ہوتی ہے ، کبھی بنیانیں گر رہی ہوتی ہیں اور کبھی آسمان سے تمہاری پگڑیاں اتر رہی ہوتی ہیں ۔اے بیوقوفو! ان نشانات کو دیکھنے کے باوجود تم نصیحت کیوں نہیں پکڑتے ؟ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَبَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ وَأَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ إِنَّ اللهَ قَوِيٌّ عَزِيز الهي يون (الحديد : ٢٦)