خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 323 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 323

خطبات طاہر جلد۴ 323 خطبه جمعه ۱۲ را پریل ۱۹۸۵ء تھے اور کہہ رہے تھے کہ یہ ایک فساد ہے اس کا نام جہا د رکھنا بالکل غلط ہے بلکہ بڑے سخت الفاظ میں ان لوگوں کو یاد کر رہے تھے جو اس میں شامل ہوئے ۔ اگر یہ غدر کامیاب ہو جاتا تو اس کے نتیجہ میں ہرگز کوئی اسلامی حکومت ہندوستان میں قائم نہ ہوتی ۔ تاریخ کا ادنی سا علم رکھنے والا بھی جانتا ہے کہ اس کے نتیجہ میں انگریز کی حکومت کی بجائے ہندو کی حکومت آتی اور ہندوؤں کی حکومت نے انہی مسلمانوں کو پہلے حال سے بھی بدتر کر دینا تھا۔ پس یہ واقعہ رونما ہونے والا تھا۔ بہت سے با شعور مسلمان علماء نے معاملات کو بھانپتے ہوئے نہ صرف یہ کہ اسے اسلامی جہاد قرار نہیں دیا بلکہ اس کے خلاف فتوے دیئے ۔ اس سارے واقعہ کے بعد مبینہ وائٹ پیپر میں ایک نتیجہ یہ بھی نکالا گیا ہے اور وہ بہت دلچسپ ہے کہتے ہیں کہ غلام مرتضی صاحب نے اپنی جیب سے اتنی مدد کی ،گھوڑوں اور سواروں پر خرچ کیا تا ہم ان کے خاندان کی حالت پتلی ہوتی چلی گئی اور جس گورنمنٹ عالیہ کو ان کے باپ نے مسلمان بھائیوں کے خلاف مدد پہنچائی تھی اس نے بھی ان کی کوئی قدر نہ کی ۔معاندین کے اس نتیجہ سے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ کیا واقعہ ہوا تھا اور کس لئے وہ مدد کی گئی ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کسی ذاتی غرض کے لئے انگریز کی کبھی کوئی مدد کی نہ کبھی انگریز کی طرف سے خیر کا ایک ذرہ بھی آپ کو یا آپ کی جماعت کو پہنچا۔ نہ آپ کے آباء واجداد میں سے کسی نے ذاتی غرض کے لئے کوئی خدمت کی اور نہ کبھی انگریز کی طرف سے انہیں کوئی فیض پہنچا۔ یہ حصہ تو بہر حال انہوں نے تسلیم کر لیا ہے۔ اس کے برعکس جن کو فیض پہنچا وہ کون لوگ تھے وہ چند علماء تھے جن کا تعلق وہابیہ فرقہ یا دیو بندی فرقہ سے تھا یعنی موجودہ دور میں جماعت کے جو اشد ترین مخالفین ہیں ان کے آباؤ اجداد ہی تھے یہی وہ لوگ تھے جو امر واقعہ کے طور پر بڑی شدت کے ساتھ انگریز کی حمایت کر رہے تھے ۔ علاوہ ازیں بعض شیعہ علماء بھی تھے جو بڑی شدت کے ساتھ انگریز کی حمایت کر رہے تھے۔ چنانچہ ان سب کو انگریزوں سے فیض ۔ پہنچے اور نہ تو یہ کسی بھلائی کے جذبہ سے تھے اور نہ کسی قومی مصلحت کی وجہ سے تھے بلکہ ان کے ساتھ ذاتی اغراض بھی وابستہ تھیں۔ چنانچہ قیصر التواریخ جلد دوم صفحہ ۳۵۱ پر درج ہے کہ : بغاوت فرو ہونے کے بعد جن لوگوں کو صلہ وانعام سے نوازا گیا ان میں لکھنو کے ممتاز عالم و مجتہد سلطان العلماء سید محمد صاحب بھی تھے جنہیں سرکار