خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 26 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 26

خطبات طاہر جلد ۴ 26 خطبه جمعه ۱۱ جنوری ۱۹۸۵ء کر دینا غلطی ہو گئی تو ہماری رہنمائی کر دینا۔ لیکن بعض بد قسمت بیچارے نہایت بیوقوف ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو بہت چالاک سمجھ رہے ہوتے ہیں اور ان کا انجام ہمیشہ عام بیوقوفوں کی نسبت بہت زیادہ بد ہوتا ہے۔ تو قرآن کریم ایک عظیم کتاب ہے ، حیرت انگیز ہے عَلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ کا کلام ایسا دل کی باریکیوں پر نگاہ رکھتا ہے اور ایسے ایسے رازوں سے ہمیں مطلع کرتا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے اور روح عش عش کر اٹھتی ہے اور بعض غلطیوں سے ہمیں بچاتا ہے جو بڑی خطرناک ہیں ۔ ایک طرف ہم جب کہتے ہیں کہ ہم کلمہ پڑھتے ہیں، جب ہم کہتے ہیں کہ ہم حضرت محمد مصطفی ﷺ کے عاشق اور دیوانے ہیں تو تمہیں کیا حق ہے یہ کہنے کا کہ ہم نہیں ہیں اور دوسری طرف جلدی میں ان لوگوں کو جو اسلام کے علمبردار ہونے کا دعوی کرتے ہیں جھوٹے اور دھریہ اور مرتد اور ہر بات کہہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کے دل میں کچھ بھی نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دل میں ضرور کچھ ہے ہم تمہیں بتا دیتے ہیں کہ وہ کیا ہے۔ تمہیں یہ حق کوئی نہیں ہے کہ دعوی کا انکار کر ولیکن انسانی فطرت کے راز ہم تمہیں سمجھاتے ہیں ان کو سمجھ لو اور پھر صیح بات کیا کرو۔ ان کو یہ بتاؤ کہ تم ان بدقسمتوں میں سے ہو أَفَمَنْ زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ فَرَاهُ حَسَنًا بڑے ہی بیوقوف ہو گند کے اوپر بیٹھے ہوئے ہو اور سمجھتے ہو کہ ہم عطر کی دکان سجائے بیٹھے ہیں ، بوسیدہ چیتھڑے پہنے ہوئے ہو اور سمجھ رہے ہو کہ خلعت فاخرہ میں ملبوس ہیں، سر میں گند پڑا ہوا خاک آلودہ بال اور چیتھڑے کی ٹوپی پہنی ہوئی ہے اور سمجھ رہے ہو کہ تاج شاہی ہمارے سر کا لباس ہے۔ تو فرمایا یہ ان بدنصیبوں میں ہیں تم ان کے اوپر اپنے فیصلوں میں جلدی نہ کرو، اللہ ان کے حال سے باخبر ہے اور ان کا انجام وہی ہوگا جو ایسے دیوانوں کا ہمیشہ ہوا کرتا ہے۔ انجام کی خبر عجیب رنگ میں دی۔ یہاں آیت کے اس حصہ کے بعد یہ نہیں فرمایا کہ یہ بڑے صلى الله بد انجام کو پہنچیں گے، یہ نہیں فرمایا کہ یہ لوگ تباہ و برباد کر دیئے جائیں گے بلکہ اچانک آنحضرت کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ اے محمد ! تیرا نفس ان پر حسرتیں کرتا ہوا ہلاک نہ ہو جائے ۔ اتنا شدید غم ہے تجھے ان لوگوں کا اور ان کی حرکتوں کا کہ تو اپنی فکر کر ، مجھے تیری فکر ہے۔ یہ تو ہلاک ہوں گے بہر حال تو ان کی ہلاکت کے غم میں اپنے آپ کو ہلاک کر رہا ہے۔ کتنا عظیم کلام ہے کس طرح بیچ کے ایک طبعی نتیجہ کو چھوڑ کر حضرت محمد