خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 319
خطبات طاہر جلد ۴ نہیں کرنا یہ کفار کا لباس ہے۔ صلى الله علي 319 خطبه جمعه ۵ را پریل ۱۹۸۵ء یہ تو ایسی ہی ہے کہ جیسی روح ویسے فرشتے ۔ پس ہماری روحوں کو تو کفار کا مسیح قبول نہیں ہماری روحوں کو تو محمد مصطفی ﷺ کی امت کا مسیح قبول ہے اور امت محمدیہ کے لئے ہمیشہ کے لئے حکم ہے کہ تم نے زرد کپڑے نہیں پہننے کیونکہ یہ کفار کا لباس ہے ۔ پس اگر محمد مصطفی ﷺ کی امت کا مسیح چاہتے ہو تو اس کے سوا تمہارے لئے اور کوئی چارہ نہیں کہ آمد مسیح کے تصور کو صاف اور پاک کرو اور جیسا کہ علم الرویا کے اصول سے ثابت ہے آنے والے مسیح کے متعلق یہ یقین کرو کہ اس پیشگوئی میں ایک تعبیر طلب پیغام تھا اور زرد کپڑوں سے مراد سوائے بیماری کے اور کچھ ہو نہیں سکتا لیکن اگر تم نے اصرار کرنا ہے اور ظاہری طور پر زرد کپڑوں میں دیکھنا ہے تو پھر تمہیں تمہارا مسیح مبارک ہو۔ ہمیں تو وہی مسیح منظور ہے جو حضرت محمد مصطفی ﷺ کے احکامات کے تابع ہے جس نے سر مو بھی شریعت اسلامیہ سے انحراف نہیں کیا اور اس کی زندگی کا ایک ادنی سا جزو بھی حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی اطاعت صلى الله سے کبھی باہر نہیں گیا۔ صلى الله عروسه آج کے خطبہ کے لئے جلسہ کی مناسبت سے میں نے مختصراً بیان کرنے کے لئے دو اعتراض چن رکھے تھے۔ انشاء اللہ یہ سلسلہ بعد میں جاری رہے گا اور جہاں تک اس جلسہ کی آخری تقریر کا تعلق ہے اس میں میں ختم نبوت کے بارہ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں کیونکہ خاتم النبیین کے موضوع پر مبینہ قرطاس ابیض میں متعدد اعتراض اٹھائے گئے ہیں اور حیرت انگیز تلبیس سے کام لیا گیا ہے جس کا ایک خطبہ میں جواب دیا جا ہی نہیں سکتا ۔ اس لئے اس جلسہ ( منعقدہ ۵۔۶۔۷ اپریل ۱۹۸۵ ء بمقام اسلام آباد ٹلفور ڈانگلستان ) کی آخری تقریر کے لئے میں نے خاتم النبیین کا موضوع چنا ہے مگر اس کا ہر پہلو نہیں لوں گا بلکہ صرف دو پہلو بیان کئے جائیں گے جن پر اس رسالہ ( مزعومہ قرطاس ابیض ) میں اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ وہ بھی اتنے زیادہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے توفیق عطا فرمائے میں وقت کے اندرا نہیں بیان کر سکوں ورنہ اس موضوع پر کہنے کے لئے مواد تو بہت زیادہ ہے۔