خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 314
خطبات طاہر جلد ۴ 314 خطبه جمعه ۵ را پریل ۱۹۸۵ء حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ذات اقدس پر اور اسلام پر وہ کیا کرتے تھے۔ پس اس نشاندہی کے بعد اب ہمارے لئے ان حملوں کو سمجھنا بہت آسان ہو جاتا ہے۔ ولیم میور ایک مشہور عیسائی مصنف ہے وہ اپنی کتاب ”لائف آف محمد صفحہ نمبر ۴۸ پر تدریجی صلى الله دعوی کے متعلق آنحضرت ﷺ پر یہ اعتراض کرتا ہے کہ :۔ :۔ ہم یہ قیاس کر سکتے ہیں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) شک اور ہچکچاہٹ کے اس دور میں سے گزرنے کے بعد یہ کہنے لگا کہ یہ خدا کا پیغام ہے۔ دریں اثناء اس نے یہ کہا کہ یہ سب خدا کے نام کی خاطر ہے۔ یہ مقام اس کی تمام زندگی پر چھا گیا اور اس کی حرکات میں مدغم ہو گیا۔ وہ ایک خادم بنا، رسول بنا اور پھر خدا کا نائب ۔ اس کے مشن کے دائرے ہمیشہ بڑھتے رہے اور ان کی بنیاد انہی اصولوں پر قائم رہی۔ اب نام بدل لیں ولیم میور کا اور اس کی جگہ اس قرطاس ابیض کے مصنف کا نام رکھ دیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ولیم میور مزید لکھتا ہے : مکہ میں کسی حاکم اعلیٰ کی غیر موجودگی اور آپس میں بٹی ہوئی حکومت نے محمد کو اس وقت اس فیصلہ (یعنی نبوت ) کا موقع دیا۔ لائف آف محمد صفحه ۳۲) مدینہ آنے کے چند ماہ بعد محمد نے یہودیوں کو روزہ رکھتے ہوئے پھر وہ یہ اعتراض بھی اٹھاتا ہے۔ دیکھا اور جلدی سے اپنے لوگوں کے لئے اپنالیا“۔ اس سے پہلے یہ اسلامی حکم نہ تھا ۔ یہ اس دوران میں نافذ ہوا جب محمد اپنے دین کو یہودیوں کے تہواروں کے ساتھ ساتھ رکھنا چاہتا تھا۔ جہاں تک بیماریوں کا تعلق ہے وہی مراق اور ہسٹیریا اور مرگی کے ذلیل اور نا پاک اعتراض کس پر کئے گئے؟ ان پر جو ساری کائنات کے مقصود تھے جن کی خاطر زمین و آسمان کو پیدا کیا گیا تھا۔