خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 304
خطبات طاہر جلد ۴ 304 خطبه جمعه ۵ را پریل ۱۹۸۵ء کے لئے ہم (یعنی حکومت پاکستان ) مرزا صاحب کی تحریروں میں سے بعض اقتباسات پیش کرتے ہیں۔ ” خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔۔۔۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہور ہے ہیں وہ ہرگز دکھلا نہ سکتا۔ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه : ۱۵۲) پھر ایک اور حوالہ تمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۸۴، ۸۵ کا دیتے ہوئے حکومت پاکستان اس اقتباس کو بھی اعتراض کا نشانہ بناتی ہے۔ دنیا میں کوئی نبی نہیں گزرا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا۔ سو جیسا کہ صلى الله براہین احمدیہ میں خدا نے فرمایا ہے کہ میں آدم ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحاق ہوں، میں یعقوب ہوں، میں اسماعیل ہوں ، میں موسیٰ ہوں ، میں داؤ د ہوں، میں عیسی ابن مریم ہوں ، میں محمد ﷺ ہوں یعنی بروزی طور پر جیسا کہ خدا نے اسی کتاب میں یہ سب نام مجھے دیئے اور میری نسبت جرى الله فى حلل الانبياء فرمایا یعنی خدا کا رسول سب نبیوں کے پیرایوں میں ۔ سو ضرور ہے کہ ہر نبی کی شان مجھ میں پائی جاوے۔ اس اعتراض کے علاوہ ایک دوسرا اعتراض یہ اٹھایا گیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بانی سلسلہ عالیہ احمد یہ نے اپنی وحی کو دیگر ابنیاء کی وحی کے مشابہ قرار دیا ہے۔ دراصل یہ دونوں اعتراضات ایک ہی نوع کے ہیں۔ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام زمرہ انبیاء میں شامل ہیں تو زمرہ انبیاء کے متعلق قرآن کریم سے ہمیں دو قسم کی آیات ملتی ہیں۔ ایک جگہ فرمایا : كل امن بِاللهِ وَمَلَكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ (البقرة: ۳۸۷) کہ ہم رسولوں کے درمیان کسی قسم کا فرق نہیں کرتے ۔ یہ دعویٰ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ اور آپ کے ماننے والوں کی طرف منسوب کیا گیا ہے اور دوسری جگہ فرمایا : تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ