خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 24
خطبات طاہر جلد۴ 24 خطبه جمعه ۱۱ جنوری ۱۹۸۵ء جاتا ہے فَرَاهُ حَسَنًا اور وہ اس کو حسین دیکھنے لگتے ہیں ۔ جہاں تک انسانی فطرت کا تعلق ہے، عام انسانی مشاہدہ کا تعلق ہے ایسے واقعات بھی ہمیں نظر آتے ہیں مگر پاگلوں میں نظر آتے ہیں یعنی امر واقعہ یہ ہے کہ ایک آدمی دل کو بہلانے کے لئے کبھی یہ کہہ دیتا ہے کہ میرا یہ گھر محل کی طرح ہے، یہ جو میں نے کپڑے پہنے ہوئے ہیں یہ شاہی لباس ہے یا بچوں کو بہلانے کی خاطر ٹھیکریاں پکڑا کر اُن کو ہیرے اور جواہر بھی کہہ سکتا ہے لیکن یہ ساری باتیں ہوش و حواس رکھنے والے بھی یا خود اپنے نفس کو دھوکہ دینے کی خاطر استعمال کرتے ہیں یا دوسروں کو دھوکہ دینے کے لئے استعمال کرتے ہیں اور ہم عرف عام میں کہتے ہیں کہ یہ دل کا بہلاوا ہے اور اس میں حقیقت کچھ نہیں ۔ لیکن بعض پاگل ہم نے ایسے بھی دیکھے ہیں کہ لوہے کی تار باندھی ہوئی ہے انگلی پر اور کہہ رہے ہیں کہ یہ ایک ملکہ کی انگوٹھی ہے جو ہمارے مقدر میں لکھی گئی تھی جو ہم نے اپنے آباؤ اجداد سے ورثے میں پائی تھی ۔ پھٹے پرانے چیتھڑے پہنے ہوئے ہوتے ہیں اور اُن کو خلعت شاہی قرار دے رہے ہوتے ہیں۔ سر کے اوپر ایک بوسیدہ بد بودار ٹوپی پڑی ہوگی اور وہ بڑی عزت اور احترام سے اس کو ہاتھ لگائیں گے اور کہیں گے یہ شاہی تاج ہے جو ہمارے سر پر ہے۔ نہایت بوسیدہ حال میں ، نہایت پراگندہ حال میں آپ کو ایسے بھی پاگل نظر آئیں گے جو بڑے فخر کے ساتھ یہ اعلان کرتے پھرتے ہیں کہ ہم ساری دنیا کے بادشاہ ہیں اور ساری دنیا کے تاج اور مملکتیں اور ان کے تمام خزائن ہمارے قبضے میں دیئے گئے ہیں تو پاگل پن میں ایسا ہوتا ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے کہ بعض دفعہ مذہبی جنون یہ شکل اختیار کر لیا کرتا ہے اور تم یہ نہ سمجھو کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں بظاہر جھوٹے نظر آئیں گے یعنی ان معنوں میں جھوٹے کہ خود بھی جان بوجھ کر دھو کہ دے رہے ہیں ، فرماتا ہے یہ خود اتنے پاگل ہو چکے ہوتے ہیں کہ ان کو نہایت مکروہ کام خوبصورت دکھائی دیتے ہیں اور یہ جوان کا فعل ہے یہ بظاہر خواہ کتنا ہی حسین ان کو دکھائی دے رہا ہو خدا کی نظر میں ایک گمراہ کا فعل ہے اور اس کی پاداش سے یہ بچائے نہیں جائیں گے۔ یہ اعلان ہے جو قرآن کریم میں کیا جا رہا ہے۔ تو اس لئے میں ان احمدیوں کو جو اس فیصلے میں جلدی کرتے ہیں کہ عملاً دھو کہ دینے کی خاطر کلیہ دھر یہ لوگ ہیں جو محض اسلام کا نام استعمال کر کے دھوکہ دے رہے ہیں اور ان کے دل میں کچھ بھی نہیں ، اتنا بڑا فتوی ان لوگوں کے متعلق صادر نہ کیا کریں۔ میں ان سے یہ کہتا ہوں کیونکہ دلوں