خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 278 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 278

خطبات طاہر جلد۴ 278 خطبه جمعه ۲۲ مارچ ۱۹۸۵ء آخر کس بات کی بنا پر تم اپنے آپ کو سچا قرار دیتے ہو۔ در اصل تمہاری ساری باتیں جھوٹی ہیں ۔ تمہارے لئے ایک ہی راستہ ہے کہ اس شخص کو صلى علیه قبول کرو جسے خدا نے علم و عرفان بخشا ہے جس کے متعلق حضرت محمد مصطفی ﷺ کی خوشخبری ہے۔ وہ صلى الله عليس صلى الله علوس جو خدا کی طرف سے تمہارے لئے ہر مصیبت ہر بیماری کا علاج لے کر آیا تھا۔ اس کو تو تم نے رد کر دیا ہے اب پیچھے اپنے لئے تم کیا چاہتے ہو۔ یہ جو کچھ تھا یہ میں نے تمہیں پڑھ کر سنا دیا ، اس کے سوا تمہارا اور کوئی مقدر نہیں۔ اگر زندگی چاہتے ہو تو ان لوگوں سے نجات حاصل کرو جن کو حضرت اقدس محمد مصطفی علی نے تمام فتنوں کی آماجگاہ قرار دیا اور تمام فتنوں کا منبع و ماوی قرار دیا۔ یا درکھو حضرت صل الله محمد مصطفیٰ علیہ کے انکار کے بعد تم زندگی کی راہ ہر گز نہیں دیکھ سکتے ۔ جو مرض آنحضور ﷺ نے تشخیص فرمادی اسے لازما ماننا پڑے گا ۔ آج نہیں مانو گے تو کل تمہاری نسلیں قبول کریں گی اور اس مرض کا وہی علاج ہو گا جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے تجویز فرمایا یعنی امام مہدی ، امام ربانی کو قبول کرنا پڑے گا۔ اس مسیح موعود کو ماننا پڑے گا جسے خدا نے اسلام کے احیاء نو کے لئے مبعوث فرمایا ہے۔ اگر نہیں مانو گے تو پھر ہمیشہ کے لئے تمہارے مقدر میں ایک موت ہے اس کے سوا اور کچھ نہیں۔