خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 274 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 274

خطبات طاہر جلد ۴ 274 خطبه جمعه ۲۲ مارچ ۱۹۸۵ء یہ ہیں ان کی آپس کی باتیں ۔ یہ ہفت روزہ آگے چل کر لکھتا ہے : جمعیت علمائے اسلام کے معروف رہنما مولانا غلام غوث ہزاروی نے اپنی زبان کے ہل چلا کر نو خیز نسل کی جو پنیری تیار کی ہے۔ وہ بھی بد زبانی اور گالیوں کے باب میں بے مثال نمونے تیار کر رہی ہے اور کرے گی اور ایک وقت آئے گا کہ یہی پود ، انہی ہتھیاروں کے ساتھ خودان کے منہ آئے گی اور پھر وہ پچھتائیں گے۔ (ہفت روزہ تنظیم اہل حدیث لا ہور ۵ ستمبر ۱۹۶۹ء صفحہ ۴۳) بات بڑی سچی کہہ گئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ جب بھی احمدیوں کے خلاف حکومتوں نے یا بعض سر پھروں نے اس پنیری سے کام لیا تو وہی زبان جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف گالیاں دینے کے لئے خریدی گئی تھی الٹ کر پھر اپنے آقاؤں کو ایسی ایسی گالیاں دینے لگی کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ عبرت کے تازیانے پڑے لیکن ان کو محسوس نہیں ہوا۔ صلى الله عروسه سکے گا۔ اب بعض لوگ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ پھر بھی آج کل کے مولوی ہیں اور اگر یہ اشرار الناس ہیں تو پھر ان کی بات قابل اعتبار نہیں کسی بزرگ کی بات کرو تو اس ضمن میں پہلی بات یہ ہے کہ حضرت حمد مصطفی ﷺ سے بزرگ ترین اور کون ہو سکتا ہے۔ نہ کبھی پیدا ہوا اور نہ قیامت تک پیدا ہوا آپ انسان کامل اور نبیوں کے سردار تھے آپ کی کس کس بات کا تم انکار کرتے چلے جاؤ گے اور اگر تم نے صرف بعد کے بزرگوں کی باتیں ماننی ہیں تو پھر وہ بھی سن لو ! حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی نے علماء کو یہودی علماء کا مثیل قرار دیتے ہوئے فرمایا: ا اگر نمونہ یہود خواہی کہ بینی علماء سوء که طالب دنیا باشد ۔۔۔۔۔۔۔ تماشا كن كانهم هم ---- الفوز الكبير مع فتح الخبير في اصول التفسیر صفحه ، ا باب اول ) اگر تم یہود کا نمونہ دیکھنا چاہتے ہو، وہ یہودی علماء جو مدتوں پہلے ختم ہو چکے ہیں تو پھر ان علماء کو دیکھو جو آج کل علماء سوء ہیں اور یہ دنیا کے طلب گار ہو چکے ہیں۔ اور حضرت امام غزائی جو کہ مفکرین اسلام میں چوٹی کا مقام رکھتے ہیں ، فرماتے ہیں ۔ یہ عربی میں لمبی عبارت ہے۔ میں اس کا صرف ترجمہ پڑھ کر سناتا ہوں: