خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 271 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 271

خطبات طاہر جلد ۴ 271 خطبه جمعه ۲۲ مارچ ۱۹۸۵ء کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ تو بہر حال دنیوی اخبارات و رسائل ہیں ، علماء کی بات کرو۔ کسی دینی رسالے میں کسی عالم دین نے اس موضوع پر قلم اٹھایا ہو تو اس کو ماننے کے لئے تیار ہیں تو وہ بھی سن لیجیے۔ ہفت روزہ تنظیم اہلحدیث ایک دینی رسالہ ہے جو اہل حدید ساحدیث لاہور کے زیر اہتمام شائع ہوتا ہے۔ اس ہفت روزہ نے علماء کے بارہ میں لکھا: صلى الله ان کے یہ طور د دیکھ کر حضور علی ﷺ کا یہ ارشاد یاد آ گیا کہ مساجدهم عامرة وهى خراب من الهدى علماء هم شر من تحت اديم السماء من عندهم تخرج الفتنة و فيهم تعود (بيهقى) اور ان کی مسجد میں یوں تو آباد ہوں گی پر بے روح ہوں گی۔ ان کے مولوی سب سے بڑے فتنہ گر اور فتنوں کے ملا ہوں گے۔ ( یکم مارچ ۱۹۶۸ء صفحه ۴ ) یہ حوالہ ایک مسلمہ دینی رسالے سے ماخوذ ہے اور ترجمہ بھی خود انہوں نے کیا ہوا ہے مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے متعلق کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ جماعت احمدیہ کے ایجنٹ تھے یا استعماری صلى الله عروسه طاقتوں کے ایجنٹ تھے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس بارہ میں کیا لکھتے ہیں ۔ آیا حضور اکرم ﷺ کی یہ یہ حدیث جس میں علماء هم شر من تحت ادیم السماء کی پیش گوئی کی گئی ہے، پوری ہو چکی ہے یا نہیں؟ یہ بہت ہی اہم اور قابل غور نکتہ ہے۔ جب ان کو توجہ دلائی جاتی ہے کہ میاں ! ان خطرات کی طرف بھی توجہ کرو جن کی طرف صلى حضرت اقدس مصطفیٰ تمہیں توجہ دلا رہے ہیں تو تم آنکھیں بند کر لیتے ہو اور منہ موڑ کر دوسری عروسه صلى طرف دیکھنے لگ جاتے ہو۔ اس کے برعکس جن خطرات کا آنحضور ﷺ کوئی ذکر نہیں فرمار ہے وہ صلى الله تمہیں نظر آنے لگتے ہیں۔ کچھ تو عقل کے ناخن لو اور دیکھو کہ حدیث نبوی ﷺ میں کیا لکھا تھا۔ الله عروسه ۔ آنحضور ﷺ نے کیا فرمایا تھا تمہارے متعلق ۔ تو کہتے ہیں یہ تو ابھی وقت ہی نہیں آیا تم ہو گے اشرار الناس ، تم ہو گے آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ، غرضیکہ گالیاں دینا شروع کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں خبردار جو علماء کے متعلق کچھ کہا ۔ ہم جواباً کہتے ہیں یہ ہماری بات نہیں یہ تو حضرت اقدس محمد نے فرمایا ہے اور جہاں تک اس بات کے طے کرنے کا تعلق ہے وہ وقت آچکا ہے یا نہیں مصطفى صلى الله عروس