خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 256 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 256

خطبات طاہر جلد ۴ 256 خطبه جمعه ۲۲ مارچ ۱۹۸۵ء اب اس کی مجالس میں نہ بتی نہ دیا ہے بگڑی ہے کچھ ایسی کہ بنائے نہیں بنتی ہے اس سے یہ ظاہر کہ یہی حکم قضاء ہے فریاد ہے اے کشتی امت کے نگہباں بیڑا یہ تباہی کے قریب آن لگا ہے ( مسدس حالی ۔ سنگ میل پبلیکیشنز لاہور صفحہ ۳۸، ۱۰۹) اور علامہ اقبال جن کے تبصروں سے تم لوگوں نے اپنے مزعومہ قرطاس ابیض کو سجایا ہوا ہے۔ اگر ان کی بات بقول تمہارے خدا کا کلام ہے تو اس کلام کو بھی تو پھر سنو ! علامہ صاحب مسلمانوں کے متعلق کہتے ہیں : ه وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود (جواب شکوه صفحه ۱۱) تم علامہ اقبال کے حوالے سے احمدیت کے خلاف بڑی بڑی باتیں کرتے ہو گو یا کسی پر خدا تعالیٰ کا کلام نازل ہو گیا ہے اور وہ فخر سے پیش کیا جا رہا ہے۔ مگر یہ بھی تو سنو کہ علامہ اقبال کی زبان تمہیں مخاطب کر کے کیا کیا کچھ کہہ گئی ہے ! اور اب مولوی مودودی صاحب کی سنئے ۔ فرماتے ہیں: بازاروں میں جائیے مسہ میں جائے مسلمان رنڈیاں آپ کو کوٹھوں پر بیٹھی ہوئی ،، نظر آئیں گی اور مسلمان زانی گشت لگاتے ملیں گے ۔ جیل خانوں کا معائنہ وو وو کیجیے۔ مسلمان چوروں“ ”مسلمان ڈاکوؤں“ اور ”مسلمان بدمعاشوں“ سے آپ کا تعارف ہوگا ۔ دفتروں اور عدالتوں کے چکر لگائیے رشوت خوری جھوٹی شہادت ، جعل ، فریب ، ظلم اور ہر قسم کے اخلاقی جرائم کے ساتھ آپ لفظ مسلمان“ کا جوڑ لگا ہوا پائیں گے۔ سوسائٹی میں پھر یئے۔ کہیں آپ کی ملاقات مسلمان شرابیوں سے ہوگی ۔ کہیں آپ کو مسلمان قمار باز“ ملیں