خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 251
خطبات طاہر جلد ۴ 251 خطبه جمعه ۲۲ مارچ ۱۹۸۵ء ایک اردو اخبار مزدور ملتان سے شائع ہوتا ہے جس کا ایڈیٹر سیدا بوذر بخاری ہے جو مشہور احراری لیڈ رسید عطاء اللہ شاہ بخاری کا بیٹا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ( آج ان کی جو چوٹی کی لیڈرشپ ہے یہ اس کی نمائندگی کر رہا ہے ) اس نے اپنی اشاعت ۱۳ رجون ۱۹۵۳ء میں (یعنی ۵۳ ء کی تحریک سے پہلے کون فساد پھیلا رہا تھا، کن باتوں کے نتیجہ میں فساد پھیلا ، وہ لکھتے ہیں) ایک مضمون شائع کیا جس میں جماعت احمد یہ کے امام کے متعلق عربی خط میں ایک ایسی پست اور بازاری بات لکھی کہ ہماری شائستگی ہمیں اس کی تصریح کی اجازت نہیں دیتی ۔ اگر یہ الفاظ احمدی جماعت کے کسی فرد کے سامنے کہے جاتے اور نتیجہ یہ ہوتا کہ کسی کی کھوپڑی توڑ دی جاتی تو ہمیں اس پر ذرا بھی تعجب نہ ہوتا ( تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ صفحہ ۸۷ ) یہ مسلمان منصفین کی رائے ہے جنہیں انصاف کا لمبا تجربہ حاصل تھا انکی رائے معمولی حیثیت نہیں رکھتی ۔ کون فساد پھیلا رہا تھا اور کون صبر کر رہا تھا یہ خلاصہ ہے ساری تحریک کا جو انہوں نے چند الفاظ میں نکال دیا ہے۔ چنانچہ فاضل حج مزید لکھتے ہیں: جو الفاظ استعمال کئے گئے ہیں وہ پرلے درجے کے مکروہ اور متبذل ذوق کا ثبوت ہیں اور ان میں مقدس زبان کی نہایت گستاخانہ تضحیک کی گئی ہے جو قرآن مجید اور نبی تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ صفحہ ۸۷، ۸۸) کریم ﷺ کی زبان ہے۔ الله اگر ۱۹۵۳ء یاد نہیں رہا اگر ۱۹۵۳ء کی تحقیقاتی عدالت کے فیصلے دیکھنے کو جی نہیں چاہتا تو اس وقت پاکستان میں جو کچھ ہورہا ہے وہ کیوں نظر نہیں آرہا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ کروڑوں روپیہ لوگوں سے زکوۃ کا وصول کر کے علماء ظاہر صلى الله علی کا ایک خاص طبقہ تیار کیا جا رہا ہے جن کا پیشہ احمدیوں کو گالیاں دینے کے سوا اور کچھ نہیں ۔ بجائے اس کے کہ وہ عوام الناس کی تربیت کریں محمد مصطفی ﷺ کے دین کی اشاعت کریں ، ان سے صرف یہی خدمت اسلام لی جارہی ہے کہ جھوٹ بولیں، احمدیوں کے خلاف گندا چھالیں اسلام کے نام پر قتل و غارت ، گھر لوٹنے اور لوگوں کے اموال کھا جانے کی تلقین کریں ۔ غرضیکہ خدمت دین کا یہی خلاصہ ہے جو حکومت وقت علماء ظاہر سے کروارہی ہے بایں ہمہ دنیا کو یہ یقین کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ دراصل یہ احمدی ہی ہیں جو سو سائٹی میں نفرت کا بیج بوتے ہیں اور رس گھولتے ہیں گویا جو سارا پاکستان ان کے ظلم وستم کا نشانہ ہے اور ان کے مخالف علمائے ظاہر ہے لمائے ظاہر بیچارے بڑے صبر سے بیٹھے رہے اور ان کے خلاف کچھ نہیں کیا لیکن آخر کہاں تک برداشت کیا جا سکتا ہے؟ گو یا اپنی معصومیت کا یہ نقشہ کھینچ رہے ہیں لیکن دنیا پا گل تو