خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 225 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 225

خطبات طاہر جلد۴ 225 خطبه جمعه ۱۸ مارچ ۱۹۸۵ء بایں ہمہ تقسیم ملک سے پہلے جب مصر کے بعض مفادات کو خطرہ لاحق ہوا تو حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ نے اس کے متعلق جو جد و جہد فرمائی اس سے متاثر ہو کر یہ احراری اخبار اپنی ۱۹ جولائی ۱۹۴۲ء کی اشاعت میں رقم طراز ہے۔ دو موجودہ حالات میں خلیفہ صاحب نے مصر اور حجاز مقدس کے لئے اسلامی غیرت کا جو ثبوت دیا ہے وہ یقیناً قابل قدر ہے اور انہوں نے اس غیرت کا اظہار کر کے مسلمانوں کے جذبات کی صحیح ترجمانی کی۔ اب دیکھئے مسلمانوں کا ترجمان بھی ان کو ملا کرتا تھا تو احمدی ملا کرتا تھا۔ احمدیوں کے سربراہ کو بہترین ترجمان سمجھا کرتے تھے۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے مسلمانوں کی خدمت کے لئے ہر کوشش میں جماعت ہمیشہ پہل کرتی تھی مگر آج تمہیں کیا ہو گیا ہے کیا تمہارے اندر خدا کا کوئی خوف باقی نہیں رہا۔ جو باتیں تم کل تک کہہ رہے تھے آج ان سب کو بھلا کر ان کے برعکس راگ الاپ رہے ہو۔ اب میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں آئندہ خطبہ میں انشاء اللہ تعالیٰ اس مضمون سے متعلق بقیہ حوالہ جات پڑھ کر سناؤں گا اور یہ بتاؤں گا کہ چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کا کیا کردار ہے اور دنیا نے اس کردار کو دیکھ کر چوہدری صاحب کو کس طرح داد دی ہے اور آپ کے ایمان ، اخلاص اور اسلام سے محبت کو شاندار الفاظ میں بیان کیا ہے اور جماعت احمد یہ کے امام نے جو خلیفہ اسیح الثانی تھے انہوں نے اس موقع پر کیا کارروائی کی۔ یہ سارے واقعات بڑے دلچسپ ہیں اور تاریخ کے ایسے باب پر مشتمل ہیں جس کا جماعت احمدیہ کو علم ہونا چاہئے ۔ اس سلسلہ خطبات کے متعلق دوستوں کی طرف سے جو خطوط موصول ہو رہے ہیں ان سے پتہ لگتا ہے کہ بعض احمدی بھی ان حقائق سے نا واقف تھے اور بعض نو جوانوں نے خصوصاً جرمنی میں بسنے والے احمدیوں نے مجھے لکھا ہے کہ پہلے تو ہم جواب دیتے وقت ذرا دب جایا کرتے تھے کیونکہ ہمیں خود پتہ نہیں تھا کہ ان باتوں کا جواب کیا ہے لیکن اب ہم بڑے دھڑلے سے بات کرتے ہیں اور اس سے مخالفین سلسلہ میں ایک کھلبلی مچ گئی ہے۔ بعض جگہ سے بتانے والے یہ بتاتے ہیں کہ اب ان کی آپس میں لڑائیاں شروع ہوگئی ہیں ۔ وہ کہتے ہیں دیکھو تم جھوٹے نکلے اور احمدی سچے نکلے ہیں ۔ پس حق جب بولتا ہے تو اس کی آواز لازماً اثر کرتی ہے لیکن حق کے ہتھیار ضرور اپنے پاس ہونے