خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 221
خطبات طاہر جلد۴ 221 خطبه جمعه ۱۸ مارچ ۱۹۸۵ء سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہو جاتی ہے کہ مسلمان عوام میں اسلام کی محبت ضرور ہے اور وہ لوگ ظالم ہیں جنہوں نے اس محبت کا رخ غلط طرف موڑ دیا ہے۔ اگر عوام کو اسلام سے محبت نہ ہوتی تو مولویوں کے اکسانے پر وہ کبھی بھی جماعت احمدیہ کی مخالفت نہ کرتے ۔ اس لئے اب ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم اسلام سے محبت کرنے والے لوگوں سے رابطہ کریں اور ان کو بتائیں کہ اصل واقعات کیا ہیں۔ خودان تک پہنچیں اور اس بات کو بھول جائیں کہ علماء کیا کہہ رہے ہیں اور ہم پر کیا کیا مظالم توڑ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ مسلمان عوام تک براہ راست پہنچنا ضروری ہے کیونکہ جہاں اسلام کی محبت ہے وہاں خدا تعالیٰ نے ضرور بھلائی رکھ دی ہوئی ہے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اسلام کی محبت رکھنے والوں کو خدا تعالی کبھی ضائع کر دے۔ اس لئے مجھے کامل یقین ہے کہ پاکستان کے مسلمان عوام ہوں یا انڈونیشیا کے، ملائشیا کے ہوں یا عرب میں بسنے والے، افریقی ممالک میں زندگی گزار رہے ہوں یا کہیں اور ، اگر ان کو جماعت احمدیہ کے بارہ میں حقائق بتا دیئے جائیں تو یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ متاثر نہ ہوں ۔ وہ لازماً اس کی طرف ہوں گے جس کی طرف اسلام ہوگا ، وہ لازماً اس کی طرف ہوں گے جس کی طرف قرآن ہوگا ، وہ لازماً اس کی طرف ہوں گے جس کی طرف محمد رسول اللہ علی ہوں گے۔ وہ صداقت کی تائید کریں گے کیونکہ اس وقت وہ اپنی طرف سے محبت اسلام کی وجہ سے آپ کے دشمن ہو رہے ہیں۔ ان کے سامنے آپ کی شکل ایسی پیش کی جارہی ہے کہ گویا آپ اسلام کے دشمن ہیں ۔ ان کو یہ کہا جاتا ہے کہ دیکھو ! احمدیوں نے اسرائیل میں مشن بنا دیا ہے اور اس سے ان کا اسرائیل کا ایجنٹ ہونا ثابت ہو گیا ہے۔ اول تو یہ بھی کوئی دلیل نہیں ، نہایت ہی احمقانہ بات ہے، روس میں پاکستان کا مشن ہے تو کیا پاکستان روس کا ایجنٹ ہے۔ امریکہ میں پاکستان کا مشن ہے اسی طرح انگلستان میں ہے اور دنیا کے کتنے ممالک میں مشن ہیں تو کیا پاکستان ان سب ممالک کا ایجنٹ بنتا چلا جائے گا ؟ پس جیسا کہ میں نے بتایا ہے اول تو اسرائیل میں ہمارا وہ مشن ہے ہی نہیں جو ایک ملک دوسرے ملک میں حکومتی سطح پر قائم کرتا ہے لیکن اگر ہوتا بھی ، تب بھی ایک نہایت جاہلانہ نتیجہ نکالا جا رہا ہے کیونکہ کوئی یہ نہیں بتاتا کہ احمدی اسرائیل میں کیا ظلم کر رہے ہیں اور کیا ایجنٹی کر رہے ہیں۔ آج تک احمدیوں کے خلاف کوئی ایسا الزام ثابت نہیں کر سکتے کہ جماعت نے ایک دمڑی کی امداد بھی کسی