خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 214
خطبات طاہر جلد ۴ 214 خطبه جمعه ۱۸ مارچ ۱۹۸۵ء چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے مسلمانوں کی نہایت بے غرضانہ خدمات سرانجام دیں اس کے باوجود بعض جماعتوں نے عدالتی تحقیقات میں ان کا ذکر جس انداز میں کیا ہے وہ قابل شرم ناشکرے پن کا ثبوت ہے۔ (منیر انکوائری رپورٹ صفحہ ۲۰۹) جماعت اسلام ت جب کشمیر کی آزادی کی جدو جہد ہورہی تھی اس وقت سب سے پہلے کشمیر کی طرف توجہ دینے والے جماعت احمدیہ کے امام تھے۔ آپ ہی نے کشمیر کے جہاد کا آغاز کیا۔ آپ کی آواز پر جماعت احمد یہ کے جوان بھی اور بوڑھے بھی ، تجربہ کار بھی اور ناتجربہ کار بھی اس جہاد میں شامل ہوئے۔ ان کو ہتھیار مہیا کئے گئے اور پیسوں سے مدد کی گئی اور آرگنائزیشن یعنی نظام قائم کر کے دیا گیا۔ اب یہ تاریخی حقائق ہیں جن کو مخالفین احمدیت جس طرح بھی چاہیں اور جتنی بھی کوششیں کریں نظر انداز نہیں کر سکتے اس تاریخ کو مٹا نہیں سکتے ۔ اور جس وقت پاکستان کی طرف سے آزادی کشمیر کی با قاعدہ کوششیں ہورہی تھیں یا اپنے طور پر آزاد فورس کی طرف سے جو کوششیں ہورہی تھیں تو اس وقت ان پر اسلامی کی طرف سے شدید فتوے لگ رہے تھے اور یہ اعلان کیا جا رہا تھا کہ یہ جہاد نہیں ہے، اس میں اس خیال سے شامل نہ ہو جانا کہ یہ جہاد ہے ، تم اس کا جو مرضی نام رکھ لو اس کو جہاد نہیں کہہ سکتے ۔ یعنی ایک مظلوم ملک جہاں مسلمانوں کی زندگی اور موت کا سوال ہو جن کی حفاظت کے لئے اردگرد کے تمام مسلمان ممالک بھی حرکت میں آگئے ہوں اور جہاں تک بس میں تھا وہ ان کی حفاظت میں کوشاں ہوں وہاں ان کے متعلق جماعت اسلامی کا یہ فتوئی شائع ہو رہا تھا کہ ہرگز اس کے قریب نہ پھٹکو، یہ جہاد نہیں ہے۔ اس وقت جماعت احمدیہ نے فرقان فورس قائم کی ۔ یہ جماعت احمد یہ ہی تھی جس نے ایک پوری بٹالین دی ہے اپنے خرچ پر دشمن سے لڑنے کے لئے۔ بعد میں اس بٹالین کو حکومت نے با قاعدہ تسلیم کر کے اپنایا اور پھر جب با قاعدہ جنگ شروع ہوئی تو اس بٹالین نے بڑے کا رہائے نمایاں سر انجام دیئے ۔ اس بٹالین میں اس وقت ایسے ایسے نوجوان بھی شامل تھے جو اپنی ماؤں کے اکلوتے بیٹے تھے اور تاریخی طور پر ایسے واقعات محفوظ ہیں کہ جب حضرت مصلح موعود نے آزادی کشمیر کے لئے مسلح جدو جہد کی تحریک فرمائی تو بعض دیہات میں توجہ پیدا نہ ہوئی۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ ایک عام سی تحریک ہے اس میں حصہ لینے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ کوئی مذہبی تحریک ہو یا جماعت