خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 212 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 212

خطبات طاہر جلد ۴ 212 خطبه جمعه ۱۸ مارچ ۱۹۸۵ء ہی ایک عذر پیش کرتے ہیں اور یہ عذر دیکھیں کیسا عظیم الشان اسلامی عذر ہے فرماتے ہیں: مسلمان ہونے کی حیثیت سے میں حُكْمُ النَّاسِ عَلَى النَّاسِ لِلنَّاسِ کے نظریے کا قائل ہی نہیں“ مولانا نا صاحب کا مطلب یہ ہے کہ یہ جوڈیمو کریسی کی تعریف کی ہے کہ: "Government of the People by the People For the People" اس کے متعلق کہتے ہیں میں اس کا قائل ہی نہیں اس لئے اب اسلامی ممالک میں جو اسلامی جمہوری حکومتیں قائم ہو گئی ہیں مجھے بڑی بری لگ رہی ہیں ۔ یہ انہوں نے دلیل قائم کی ہے۔ پھر ان بیچاروں کی حیثیت کیا ہے جو اپنی اسلامی ممالک میں جمہوری حکومتیں قائم کر کے بیٹھ گئے ہیں تو خیال آتا ہے کہ شاید مولانا صاحب کا یہ مطلب ہو کہ چونکہ اسلامی ممالک کی جمہوری حکومتیں غیر مسلم ممالک کی جمہوری حکومتوں سے بہتر نہیں اس لئے انہیں پسند نہیں ہیں اور دلیل ان کے نزدیک شاید یہ ہو کہ غیر یعنی کافروں اور مشرکوں کی حیثیت مسلمانوں کے مقابل پر ادنی ہے مگر حکومتیں ان کی اعلیٰ جمہوری ہیں ۔ لہذا ان اعلیٰ جمہوری حکومتوں کے مقابل پر مجھے مسلمانوں کی ادنی جمہوری حکومتیں پسند نہیں ۔ یہ ایک حسن ظن ہے جو مودودی صاحب کے بیان سے پیدا ہوتا ہے لیکن یہ حسن ظن ان کی مندرجہ ذیل تحریر سے فوراً ہی ختم ہو جاتا ہے جس میں وہ غیر مسلم اور مسلم دونوں کی حکومتوں پر یہ فتوی دیتے ہیں کہ : غیر مسلم اگر الضالین کے حکم میں ہیں تو یہ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کی تعریف میں آتے ہیں (سیاسی کشمکش حصہ سوم، با رسوم صفحہ ۷۸) اور مصر کے متعلق مولا نا فرماتے ہیں: دو آج مصر کے موجودہ فوجی آمر مظالم کے جو پہاڑ اخوان پر توڑ رہے ہیں اس نے فراعنہ قدیم کی یاد تازہ کر دی ہے۔ غرض مسلمان حکومتوں کے خلاف مودودی صاحب شدید غیظ و غضب رکھتے تھے۔ یہ ہیں مودودی صاحب کے خیالات جن کی جماعت اسلامی پیروی کرتی ہے اور آج بڑھ بڑھ کر باتیں