خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 205 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 205

خطبات طاہر جلد۴ 205 خطبه جمعه ۱۸ مارچ ۱۹۸۵ء تالے کو کھولا جا سکتا ہے لیکن یہ بد قسمتی ہے انسانوں کی اور بد قسمتی ہے قوموں کی کہ قرآن کریم کی اس عظیم الشان تعلیم کو بھلا کر لوگ مصیبتوں کی زندگی میں پڑے ہوئے ہیں اور ایک جہنم بنا رکھی ہے اپنے لئے بھی اور دوسروں کے لئے بھی ، اپنے دوستوں کے لئے بھی اور اپنے دشمنوں کے لئے بھی ۔ حقیقت یہ ہے کہ آج دنیا کے سب مسائل کا حل قدر اشتراک پر اکٹھے ہو جانے پر منحصر ہے لیکن غیر قوموں کو تو چھوڑیئے بد قسمتی یہ ہے کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والے پاکستان میں بھی جہاں اسلام کی محبت کی دعویدار حکومت ہے وہ بھی اس بنیادی اور اصولی سبق کو سمجھ نہیں رہی۔ چنانچہ جماعت احمد یہ کے خلاف آج کل جو مہم بڑے زور وشور سے چلائی جا رہی ہے اس مہم کا خلاصہ یہی ہے کہ ہر قد راشتراک کو مٹا دو ۔ قرآن کریم کے پیغام کا خلاصہ تو یہ ہے کہ ہر قد راختلاف کو نظر انداز کردو اور ہر قدراشتراک کی طرف بلاؤ لیکن پاکستان میں جماعت احمد یہ کے خلاف چلنے والی مہم اس کے بالکل برعکس ہے۔ ہمارے مخالفین وہ باتیں کر رہے ہیں جو آسمان والے نہیں کر رہے۔ وہ بات کر رہے ہیں جو بر خلاف شہر یار ہے، خدا کی تقدیر کے خلاف ہے۔ چنانچہ معاندین احمدیت یہ عزم لے کر اٹھے ہیں کہ وہ ہر قدر اشتراک کو مٹاتے چلے جائیں گے اور ہر قد راختلاف کو ہوا دیتے چلے جائیں گے، گویا احمدیت کی دشمنی میں وہ اندھے ہو گئے ہیں اور جماعت احمد یہ کے خلاف ایسے ایسے الزامات لگا رہے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ۔ چند مثالیں میں نے گزشتہ خطبہ میں دی تھیں اور یہ واضح کیا تھا محض اپنی زبان سے نہیں بلکہ غیر کی زبان سے اور اس میں بھی ان لوگوں کی زبان سے جو آج ہم پر الزام لگا رہے ہیں یہ ثابت کیا تھا کہ جماعت احمد یہ ہمیشہ اسلام کی بھی وفادار رہی ہے اور مسلمانوں کے مفادات کی بھی حفاظت کرتی آئی ہے جبکہ ہم پر الزام لگانے والے نہ صرف یہ کہ غلط بیانی کرتے ہیں بلکہ خود ملزم ہیں خود مجرم ہیں اور مجرم بھی اقراری مجرم ! چنانچہ غیر احمدی اخبارات اور کتب کے حوالوں سے اور قیام پاکستان سے قبل کی تاریخ سے کچھ حوالے میں نے دیئے تھے اب اس سلسلہ میں میں بعض دیگر امور کو لیتا ہوں یہ بتانے کے لئے کہ ہر ایسے موقع پر جبکہ اسلام یا عالم اسلام کو کوئی خطرہ در پیش آیا جماعت احمد یہ خدا تعالی کے فضل سے ایسے مواقع پر اسلام اور مسلمانوں کے دفاع میں ہمیشہ صف اول میں کھڑی ہوئی اور پوری طاقت اور پوری ہمت کے ساتھ کمر بستہ ہو کر ہر دشمن کا مقابلہ کیا اس کے برعکس مجلس احرار اور