خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 199 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 199

خطبات طاہر جلد۴ 199 خطبه جمعه یکم مارچ ۱۹۸۵ء لئے ساتھ لایا ہوں ۔ اس پر ایس ایچ او نے کہا یہ میری بیٹی ہے اور یہ میرا Star ہے جہاں مرضی لے جائیں مگر خدا کی قسم میں کلمہ نہیں مٹاؤں گا اور نہ ہی میری فورس کا کوئی آدمی کلمہ مٹائے گا۔ اس لئے جب تک یہ فیصلہ نہ کر لیں کہ کلمہ کون مٹائے گا اس وقت تک یہ ساری باتیں فضول ہیں کہ کس طرح مٹایا جائے ۔ اس قسم کا ایک واقعہ نہیں ہوا پاکستان کے طول و عرض میں ایسے کئی واقعات رونما ہو رہے ہیں کہ پولیس جو پاکستان میں سب سے زیادہ بد نام انتظامیہ مشہور ہے اور جسے ظالم ، سفاک، بے دین اور بے غیرت کہا جاتا ہے اور ہر قسم کے گندے نام دیئے جاتے ہیں لیکن کلمہ کی محبت ایسی عظیم محبت ایسی عظیم ہے، کلمہ کی طاقت اتنی عجیب ہے کہ ان کے دلوں میں بھی تبدیلی پیدا ہو رہی ہے اور ایک جگہ سے نہیں متعدد جگہوں سے بارہا یہ اطلاعات مل رہی ہیں کہ پولیس نے کلمہ مٹانے سے صاف انکار کر دیا ہے اور یہ کہا کہ کوئی اور آدمی پکڑو جو کلمہ مٹائے ہم اس کے لئے تیار نہیں ۔ اسی طرح بعض مجسٹریٹس کے متعلق اطلاعیں مل رہی ہیں کہ وہ بڑے ہی مغموم حال میں سر جھکائے ہوئے آئے ، معذرتیں کیں اور عرض کیا کہ ہم تو مجبور ہیں ، ہم حکومت کے کارندے ہیں ، تم ہماری خاطر کلمہ مٹا دو ۔ احمدیوں نے کہا کہ ہم تو دنیا کی کسی طاقت کی خاطر بھی کلمہ مٹانے کے لئے تیار نہیں ہیں، اگر تم جبر امٹانا چاہتے ہو تو مٹاؤ ۔ پھر مجسٹریٹ نے کہا کہ اچھا سیٹرھی لاؤ تو جواب میں کہا گیا کہ ہمارے ہاتھ سیڑھی بھی نہیں لے کر آئیں گے۔ پھر انہوں نے کسی اور سے سیڑھی منگوائی اور ایک آدمی کلمہ مٹانے کے لئے اوپر چڑھا ۔ اس وقت احمد یہ مسجد سے اتنی دردناک چیچنیں بلند ہوئیں کہ یوں لگتا تھا کہ جیسے ان کا سب کچھ برباد ہو چکا ہے اور کوئی بھی زندہ نہیں رہا۔ اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ خود مجسٹریٹ کی بھی روتے روتے ہچکیاں بندھ گئیں اور ابھی کلمہ پر ایک ہتھوڑی پڑی تھی کہ مجسٹریٹ نے آواز دی کہ واپس آجاؤ ہم یہ کلمہ نہیں مٹائیں گے حکومت جو چاہتی ہے ہم سے سلوک کرے ہم اس کے لئے تیار نہیں ۔ پس ایسے واقعات حیرت انگیز طور پر رونما ہو رہے ہیں اور جب بھی کوئی ایسا واقعہ ہوتا ہے تو مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ الہام یاد آ جاتا ہے کہ يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ ( تذکرہ صفحہ ۱۸۹) کہ زمین پر بسنے والوں کی رائیں تبدیل کر دی جائیں گی اور ان کے خیالات میں انقلاب برپا کیا جائے گا۔ اگر چہ اللہ تعالی کے فضل سے مسلمانوں کے دل میں کلمہ کا