خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 136 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 136

خطبات طاہر جلد ۴ 136 خطبه جمعه ۱۵ فروری ۱۹۸۵ء ہر مسلمان پر لازم ہو جاتی ہے۔ مگر انگریز نہ ہمارے مذہبی امور میں دخل دیتے ہیں اور نہ اور کسی کام میں ایسی زیادتی کرتے ہیں جس کو ظلم سے تعبیر کر سکیں ، نہ ہمارے پاس سامانِ حرب ہے، ایسی صورت میں ہم ہرگز ہرگز کسی کا کہنا نہ مانیں گے اور اپنی جانوں کو ہلاکت میں نہ ڈالیں گئے۔ رساله شیخ سنوسی صفحہ : ۱۷ مؤلفہ خواجہ حسن نظامی ) چنانچہ احمدیت کے دور حاضر کے معاندین میں سے بھی بعض یہی بات تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے ۔ ملک محمد جعفر صاحب ایڈووکیٹ نے احمد یہ تحریک کے نام پر ایک کتاب لکھی تھی وہ فرماتے ہیں : وو مقتدر مخالفین مثلاً مولوی کے مشہور مقتدر مخال مرزا صاحب کے زمانہ میں ان کے محمد حسین بٹالوی، پیر مہر علی شاہ گولڑوی ، مولوی ثناء اللہ صاحب اور سرسید احمد خان سب انگریزوں کے ایسے ہی وفادار تھے جیسے مرزا صاحب ۔ یہی وجہ ہے کہ اس زمانہ میں جو لٹریچر مرزا صاحب کے رد میں لکھا گیا اس میں اس امر کا کوئی ذکر نہیں ملتا کہ مرزا صاحب نے اپنی تعلیمات میں غلامی پر رضامند رہنے کی تلقین کی ہے۔ (شائع کردہ سندھ ساگرا کیڈمی لاہور صفحہ:۲۴۳) پس بعض مخالفین نے بھی یہ تسلیم کر لیا ہے کہ مسلمان علماء پر دو دور آئے ہیں ایک وہ جو انگریزی حکومت کا دور تھا اور ایک بعد کا ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں وہ کچھ اور مسئلے پیش کیا کرتے تھے یعنی سارے علماء جہاد سے متعلق وہی مسائل پیش کرتے تھے جو حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ والسلام فرمارہے تھے مگر آج ان کے مسائل بالکل بدل چکے ہیں مشرق سے مغرب کی طرف رخ کر بیٹھے ہیں۔ حوالے تو بہت زیادہ ہیں لیکن اب میں بعض تازہ حوالوں پر ختم کرتا ہوں : شورش کا شمیری صاحب جو احمدیوں کے شدید معاندین میں سے تھے کتاب ”سید عطاء اللہ شاہ بخاری صفحہ نمبر ۱۴۱ اپر یہ بات تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے کہ : جمال دین ابن عبد اللہ شیخ عمر حنفی مفتی مکہ معظمہ ، احمد بن ذہنی شافعی