خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 131
خطبات طاہر جلد ۴ پھر فرماتے ہیں : 131 خطبه جمعه ۱۵ فروری ۱۹۸۵ء (حقیقة المهدی روحانی خزائن جلد ۴ ۱ صفحه : ۴۵۴ ) ” اس زمانہ کا جہا د روحانی صورت سے رنگ پکڑ گیا ہے اور اس زمانہ میں جہاد یہی ہے کہ اعلاء کلمہ اسلام میں کوشش کریں“ البدر نمبر ۳۰ ، جلد ۲ ، ۱۴ را گست ۱۹۰۳ ء صفحه ۲۳۹) پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے صرف جہاد کا وہ تصور منسوخ فرمایا ہے جو علماء نے اپنی طرف سے گھڑ لیا تھا۔ جب تک شرائط جہاد پوری نہ ہوں اس وقت تک جہاد کرنا منع ہے۔ اور وہ بھی جہاد کا صرف ایک حصہ ہے جو شرط پوری نہ ہونے کی وجہ سے منع ہے۔ جہاں تک جہاد کے وسیع تر مضمون کا تعلق ہے جہاد فی ذاتہ تو کبھی منسوخ ہو ہی نہیں سکتا وہ ہر حال میں لازماً ہمیشہ جاری رہے گا اور اس کی کوئی نہ کوئی صورت ضرور ایسی ہوگی جسے مومن سرانجام دے سکتا ہے ۔ چنانچہ آپ مزید فرماتے ہیں : اعلاء کلمہ اسلام میں کوشش کریں، مخالفوں کے الزامات کا جواب صلى الله عروسه دیں، دین متین اسلام کی خوبیاں دنیا میں پھیلا دیں آنحضرت ﷺ کی سچائی دنیا پر ظاہر کریں۔ یہی جہاد ہے جب تک خدا تعالیٰ کوئی دوسری صورت دنیا میں ظاہر کرے البدر نمبر ۳۰ جلد ۲ ، ۱۴ را گست ۱۹۰۳ء صفحه ۲۳۹) یعنی جہاد کی یہ صورت ہمیشہ کے لئے نہیں۔ دوسری صورت سے مراد یہ ہے کہ جب دشمن اسلام مذہب کے خلاف جبر سے کام لے گا تو تمہیں بھی اجازت ہو جائے گی لیکن جب تک ایسی صورت ظاہر نہیں ہوتی اس وقت تک جہاد کی دوسری شکلیں ہیں جو تمہارے سامنے ہیں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔ اب سے تلوار کے جہاد کا خاتمہ ہے ( ہر جہاد کا نہیں وہ کیوں؟ اس کی وضاحت پہلے فرما چکے ہیں ۔ ناقل ) مگر اپنے نفسوں کے پاک کرنے کا جہاد باقی ہے۔ یہ بات میں نے اپنی طرف سے نہیں کی بلکہ خدا کا یہی ارادہ ہے۔ صحیح بخاری کی اس حدیث کو سوچو جہاں مسیح موعود کی تعریف میں لکھا ہے کہ یضع