خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 124 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 124

خطبات طاہر جلد۴ 124 خطبه جمعه ۱۵ فروری ۱۹۸۵ء میں بعض اور پہلوؤں سے اس الزام کی مختلف شاخوں پر گفتگو کروں گا۔ اس الزام کے ساتھ تعلق بناتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جہاد کا منسوخ کرنے والا قرار دیا گیا اور یہ دلیل قائم کی گئی ہے کہ چونکہ آپ انگریز کے مقاصد کی خاطر انگریزوں ہی کی طرف سے کھڑے کئے گئے تھے اس لئے ان مقاصد میں سے ایک اہم مقصد جہاد کی تنسیخ تھا اور چونکہ آپ نے اپنے کلام میں اس بات کو (قرطاس ابیض کے مطابق ) بکثرت تسلیم کیا ہے کہ آپ انگریز کے مقصد کو پورا کرنے کی خاطر انگریز ہی کی طرف سے ایک نمائندہ بن کر کھڑے ہوئے۔ اگر اس دلیل کا قریب سے بغور مطالعہ کیا جائے تو اس کے بہت سے پہلو ہیں جن کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کا جائزہ لینا ہوگا ۔ سب سے پہلے یہ کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انگریز کے مقاصد کی خاطر تنسیخ جہاد کا اعلان کیا تو وہ مقاصد کیا تھے اور وہ آپ کی ذات سے کیسے پورے ہوئے؟ دوئم یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تنسیخ جہاد کا اعلان کن حالات میں کیا۔ کون سے خطرات تھے جو انگریزوں کو حقیقت در پیش تھے؟ اس کا سیاسی پس منظر کیا تھا ؟ اس کے علاوہ اور بہت سے امور ہیں جن کو میں نے نکتہ بہ نکتہ ذہن میں رکھا ہوا ہے اور میں انشاء اللہ ان میں سے ہر پہلو پر روشنی ڈالوں گا۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے تو یہ بات دیکھنے والی ہے کہ اگر انگریز نے حضرت مسیح موعود الله علیہ الصلوۃ والسلام سے جہاد کی منسوخی کا اعلان کروانا تھا اور مسلمانوں کو اس خیال سے باز رکھنا تھا تو یہ نا ممکن تھا کہ آپ سے ایسا دعوی بھی ساتھ کر وا دیتے جن سے ساری قوم آپ کی دشمن ہو جانی پ کی دشمن ہو جاتی ۔ کہاں وہ دن تھے کہ علماء آپ کو عظیم الشان خراج تحسین پیش کر رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے کہ عالم اسلام میں حضور اکرم ﷺ کے وصال کے بعد سے لے کر آج تک اس قسم کا عظیم مجاہد اسلام پیدا نہیں ہوا اور کہاں وہ دعاوی جن کے نتیجہ میں اچانک ساری کایا پلٹ گئی۔ غیر تو غیر اپنے بھی دشمن ہو گئے ، خونی رشتے دارخونی دشمنوں میں تبدیل ہو گئے اور ایک ہی دعوٹی کے ساتھ ایک ہی رات میں ایسی کا یا بیٹی کہ تمام دنیا میں گویا ایک بھی آپ کا حمایتی نہ رہا۔ ایسا دعویٰ کروادینا جس کے نتیجہ میں ساری دنیا دشمن ہو جائے اس کے بعد انگریز کو کیا توقع تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بات کون مانے گا۔ یعنی تنسیخ جہاد کے اعلان کے لئے