خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 117 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 117

خطبات طاہر جلد۴ 117 خطبه جمعه ۱۸ فروری ۱۹۸۵ء چل سکتا ہے بے شک چلتا ر ہے ہمیں اس کی قطعاً کوئی پرواہ نہیں ۔ نے کہا: مولانا مودودی صاحب سے بھی عدالت میں یہی سوال کیا گیا جس کے جواب میں انہوں یقیناً مجھے اس پر کوئی اعتراض نہ ہوگا کہ حکومت کے اس نظام میں مسلمانوں سے ملیچھوں اور شودروں کا سا سلوک کیا جائے۔ ان پر منو کے قوانین کا اطلاق کیا جائے اور انہیں حکومت میں حصہ اور شہریت کے حقوق قطعاً نہ دیئے 66 جائیں ۔ ( رپورٹ تحقیقاتی عدالت صفحہ نمبر ۲۴۵) سوال یہ ہے کہ غیر ملکوں اور غیر طاقتوں کے یہ لوگ ایجنٹ ہیں یا ہم ہیں جنہوں نے ہمیشہ مسلمان کے ہر خطرہ میں صف اول میں قربانیاں پیش کی ہیں۔ عالم اسلام میں کہیں بھی مسلمانوں کو کوئی دکھ اور تکلیف پہنچے تو اس کے نتیجہ میں سب سے زیادہ چوٹ احمدی کے دل پر پڑتی ہے۔ مولویوں کا تو یہ حال ہے کہ ہندوستان کے کروڑوں مسلمان جو پاکستان کی کل آبادی سے بھی زیادہ تعداد میں ہیں ان کے متعلق کہتے ہیں ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا ہمارے کانوں پر جوں تک نہیں رینگے گی ، ہماری ، کوئی رگ حمیت نہیں پھڑ کے گی، ہمارا دل نہیں چلے گا ، ہمارا جگر خون نہیں ہوگا۔ امت محمدیہ کی طرف منسوب ہونے والوں پر ظلم سے کوئی تکلیف نہیں ہوگی چاہے ان سے غیر ہندوؤں کے متعلق منو شاستر والا سلوک کیا جائے ۔ اور سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری نے تو اعداد و شمار بھی ظاہر کئے جوان کے نزدیک غیر مسلم ممالک میں مسلمانوں کے ہیں۔ چنانچہ حج طنزیہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارے اعداد و شمار نہیں یہ ان کے جمع کردہ اعداد و شمار ہیں لیکن اس سے اس بات کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کی کتنی بڑی تعداد ہے جو غیر مسلم طاقتوں کے نیچے بس رہی ہے اور ان سے کیا سلوک ہوگا اس رویہ کے نتیجہ میں جو مسلمان مملکتوں میں غیر مسلموں سے روا رکھا جائے گا۔ چنانچہ اس ضمن میں سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کہتے ہیں : وو باقی 64 کروڑ کو اپنی تقدیر کا خود فیصلہ کرنا چاہئے“ رپورٹ تحقیقاتی عدالت صفحہ ۳۲۳) کہ ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہم تو انسانی حقوق غصب کرنے کے لئے مامور کئے