خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 114
خطبات طاہر جلد۴ 114 خطبه جمعه ۱۸ فروری ۱۹۸۵ء موجود ہیں اور اس زمانہ میں ہندوؤں نے بھی نہ صرف تسلیم کیا کہ ان کے مفاد کی حفاظت کی خاطر احرار نے یہ قدم اٹھایا تھا بلکہ کھلم کھلا اخبارات میں ان کے شکریے بھی ادا ہوئے۔ چنانچہ ” بندے ماترم جو ہندوؤں کا مشہور اخبار ہے اور ہندوستان سے شائع ہوتا ہے اس نے 13 اکتوبر 1935ء 66 ۔ میں مجلس احرار کا ان الفاظ میں شکریہ ادا کیا: ادا ۔ میں مجلس احرار کے کام سے بہت خوش ہوں اور انہیں مبارک باد دیتا ہوں کہ انہوں نے نہایت جرات اور استقلال سے اپنے ہم مذہبوں سے بھی قوم اور ملک کے مفاد کی خاطر ٹکر لے لی۔ اور یہ سب سے بھاری قربانی ہے جو ہمارے احراری دوستوں نے سر انجام دی ہے۔ اور مجلس احرار یقیناً ملک کے شکریہ کی مستحق ہے یہ کل تک تو ہندوؤں کے شکریہ کی مستحق تھی مگر کیا پاکستان بننے کے بعد بھی شکریے کی مستحق ہے یا نہیں؟ یہ دیکھنے والی بات ہے کیونکہ مودودی صاحب تو یہ کہہ دیا کرتے تھے کہ قیام پاکستان سے پہلے ہم نے جو زور لگانا تھا وہ تو لگا لیا لیکن جب پاکستان بن گیا تو ہم نے اس کو تسلیم کر لیا اس لئے اب ہماری گزشتہ غلطیاں معاف کر ولیکن امر واقعہ یہ ہے کہ نہاحرار نے تو بہ کی ہے اور نہ مودودیوں نے تو بہ کی ہے۔ پس مجلس احرار ہو یا جماعت اسلامی یہ آج بھی ویسے ہی پاکستان کے دشمن ہیں جیسے کل تھے۔ چنانچہ 1953 ء میں منیر انکوائری رپورٹ شائع ہوئی ، اس کو پڑھ کر دیکھ لیجئے ۔ عدالت نے بار بار بڑے دکھ کے ساتھ اس قطعی رائے کا اظہار کیا ہے کہ ان لوگوں نے پاکستان کو نہ پہلے قبول کیا تھا نہ ہی آج قبول کرتے ہیں اور ان کی پاکستان دشمنی میں آج تک کوئی کمی نہیں آئی۔ چنانچہ فاضل جج لکھتے ہیں : احرار کے رویے کے متعلق ہم نرم الفاظ استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔ ان کا طرز عمل بطور خاص مکروہ اور قابل نفرین تھا۔ اس لئے کہ انہوں نے ایک دنیاوی مقصد کے لئے ایک مذہبی مسئلے کو استعمال کر کے اس مسئلہ کی تو ہین کی۔ (رپورٹ منیر انکوائری تحقیقاتی عدالت صفحہ نمبر ۲۲۷) ہمیشہ سے احرار کا یہی وطیرہ رہا ہے۔ پھر فاضل جج لکھتے ہیں : مولوی محمد علی جالندھری نے 15 فروری 1953 ء کو لاہور میں