خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 106 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 106

خطبات طاہر جلد ۴ وو 106 خطبه جمعه ۱۸ فروری ۱۹۸۵ء ” جماعت احمدیہ کی مثال بالکل مختلف ہے۔ اسے موجودہ دور کی ایک تبلیغی تحریک کہا جا سکتا ہے۔ یہ خود اپنے دعوے کے مطابق سچے اور اصل اسلام کو تمام دنیا میں پھر سے قائم کرنے کا عزم رکھتی ہے اور اسے آخری آسمانی تعلیم کے طور پر پھیلانے میں کوشاں ہے۔ احمدیت عالم اسلام میں وہ پہلی غیر معمولی تحریک ہے جو ایک باقاعدہ نظام کے ماتحت غیر مسلم ممالک میں تبلیغی جدو جہد کر رہی ہے ۔ وہ مسیحی مشنوں کی طرح اپنے با قاعدہ تیار کئے ہوئے مبلغ بھیجتی ہے ، سکول جاری کرتی ہے اور کتب اور رسائل کی مدد سے اسلام کو پھیلانے اور لوگوں کو مسلمان بنانے میں سرگرم عمل ہے۔ ہالینڈ کے ایک مشہور پادری مشرق بعید کے دورہ پر جاتے ہوئے قادیان بھی ٹھہرے۔ یہ ڈچ پادری ، جن کا نام ڈاکٹر کریمر ہے۔ وہ جماعت کی تنظیم اور جذ بہ تبلیغ دیکھ کر بہت متاثر ہوئے۔ بعد میں انہوں نے مسلم ورلڈ اپریل 1931 ء میں اپنے تاثرات جن الفاظ میں شائع کئے ۔ جو آج مجاہدین اسلام بن بیٹھے ہیں اور احمدیت کو غدار کہہ رہے ہیں وہ ذرا دیکھیں تو سہی کہ احمدیوں کے متعلق عیسائیوں کے کیا تاثرات تھے جو اسلام کے مد مقابل لڑ رہے تھے اور آج کیا تاثرات ہیں؟ چنانچہ پادری کریمر کے الفاظ میں ملاحظہ کریں پادری صاحب لکھتے ہیں : دو ہندوستانی مسلمانوں پر عام طور پر مایوسی کا عالم طاری ہے برخلاف اس کے جماعت ماعت احمد یہ میں نئی زندگی کے آثار : ثار پائے جاتے ہیں اور اس لحاظ سے یہ جماعت قابل توجہ ہے۔ یہ لوگ اپنی تمام توجہ اور طاقت تبلیغ اسلام پر خرچ کر رہے ہیں اور سیاست میں حصہ نہیں لیتے ۔ ان کا عقیدہ ہے کہ انسان جس حکومت کے ماتحت ہو اس سے وفادار رہے۔ اور وہ صرف اس بات کی پرواہ کرتے ہیں کہ کون سی حکومت کے ماتحت ان کو تبلیغ اسلام کے مواقع اور سہولتیں حاصل ہیں۔ اور وہ اسلام کو ایک مذہبی گروہ یا سیاسی نقطہ نگاہ سے نہیں دیکھتے بلکہ اس کو محض صداقت اور خالص حق سمجھ کر تبلیغ کے لئے کوشاں ہیں اس لحاظ سے یہ جماعت فی زمانہ مسلمانوں کی نہایت عجیب جماعت ہے اور مسلمانوں میں