خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 1036 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 1036

6 797 73 256 472 675 432 421 687 مجھے پکڑنے کی قدرت کہاں تجھے صیاد میت اٹھی ہے شاہ کی تعظیم کیلئے وضع میں تم ہو نصاری تو تمدن میں ہنود وہ میرے دل کی چٹکیوں میں مل مل کر یوں فرماتے ہیں 46 ہو فضل تیر ایار رب ہوئے تم دوست جس کے ہے ساعت سعد آئی اسلام کی جنگوں کی یوسف اس کو کہوں اور کچھ نہ کہے خیر ہوئی یہ عشق و وفا کے کھیت کبھی خوں سینچے بغیر 680 472 648 45 255 73 992 446 833 اعتراضات بر سلسلہ احمدیہ کے جوابات 758 255 109, 580, 586, 823, 925 281 239 220 72 304 621 322 318 327 132 67 62 حضرت اقدس کی تحریروں پر اعتراضات کے جوابات 336 حضرت اقدس کے دعاوی پر اعتراضات کے جوابات 312 حضرت اقدس پر عربی تلفظ کی ادائیگی پر اعتراض یہ اعتراض کہ احمدی دل سے کلمہ نہیں پڑھتے 420 686 421 209 اسرائیل کے ایجنٹ ہونے کا الزام انگریز کا خود کاشتہ پودا بروز انبیاء پر اعتراض 1001 727 536 402 جماعتی چندوں پر اعتراض جہاد پر اعتراضات کے جوابات زرد چادروں کی حقیقت حدیث دجال پر اعتراض حضرت اقدس کی ذات پر اعتراضات وائیٹ پیپر کے جوابات کا سلسلہ 218 940 255 420 635 438,170 سرکاری کتابچے کے اعتراضات 73 خود کاشتہ پودے کی حقیقت 547 67, 68, 70, 72, 76, 77-86, 93, 111, 112, 219 122, 195, 322 380 374 283 303 قادیانی ریاست کے قیام کا اعتراض مسیح ابن مریم کی تاویلات حضرت اقدس پر ملازمت کرنے کا اعتراض مهدی آخر الزمان پر اعتراض 378,989 209 218 388 اشاریہ خطبات جمعہ 1985 اذا سيد منا خلا قام سيد اسلام چیز کیا ہے خدا کیلئے فنا اک سے ہزار ہوویں بابرگ و بارہویں اگر تیرا بھی کچھ دیں ہے بدل دے جو میں کہتا ہوں اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے اے ہند تیرے سر سے اٹھا سا یہ خدا بن دیکھے کی طرح کسی ماہ رخ پر آئے دل بندی بہار آئی ہے اس وقت خزاں میں بہرہ ہوں میں تو چاہئے بے زبانی ترجمان شوق بے حد ہو تو ہو پھر اک باغ دیکھے اجڑا سرا پھر میں تھے کعبہ میں بھی پوچھتے گنگوہ کا رستہ تم دیکھو گے انہی میں سے قطرات محبت ٹیکیں گے تمہاری تربت انوار کو دے کر طور سے تشبیہ تن من کیا شار خلافت کے نام پر تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے چمن اداس ہے یارو صبا سے کچھ تو کہو خاک میں مل گئے نگینے لوگ دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں دہلی کی سرزمین نے پکارا ہے ساتھیو ربط ہے جان محمد سے میری جان کو مدام رہا دین باقی نہ اسلام باقی زبان پر اہل ہوا کی ہے اصل ہبل زنہار نہ ہونا طرف ان بے ادبوں کے صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا صورت وہی ہے نام میں رکھا ہوا ہے کیا قید میں ہے تیرے وحشی کو وہی زلف کی یاد کر رہا تھا غازیوں جب کہاں عبدالعلی کرم خاکی ہوں نہ پیارے نہ آدم زاد ہوں گاندھی نے آج جنگ کا اعلان کر دیا گنگا کی وادیوں کو بتا دو کہ ہم کون ہیں مجھ کو کیا ملکوں سے میر املک ہے سب سے جدا