خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 1021 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 1021

خطبات طاہر جلد۴ 1021 خطبه جمعه ۲۷ دسمبر ۱۹۸۵ء باہر سے اگر کوئی شوقیہ چندہ دینا چاہے تو اس سے لے لیا جاتا تھا لیکن کبھی تحریک نہیں کی گئی لیکن اس کا چندہ اتنا تھوڑا ہے یعنی اس کا جو آغاز ہے چندے کا وہ اتنا معمولی ہے کہ باہر کی دنیا کے احمدیوں کی بھاری تعداد بسہولت اس میں شامل ہو سکتی ہے۔ ان کو پتہ بھی نہیں لگے گا کہ ہم کوئی مالی قربانی میں اضافہ کر رہے ہیں اور اجتماعی طور پر اس کا فائدہ ہندوستان اور پاکستان کی وقف جدید کو نمایاں طور پر پہنچے گا۔ خصوصاً ہندوستان میں تو اتنی زیادہ طلب پیدا ہو رہی ہے احمدیت کے لٹریچر کی اور احمدی معلمین کی کہ ایک ایک علاقے کے لئے بھی اگر موجودہ وقف جدید کے سارے وسائل کام میں لائے جائیں تو وہ پورے نہیں اترتے ۔ حیدر آباد دکن جیسا کہ میں نے بیان کیا آندھرا پردیش میں حیدر آباد دکن کے ارد گرد کے علاقے ہیں ان کی طلب تو یہ ہے کہ ساری وقف جدید ہمیں دے دی جائے کشمیر کا مطالبہ یہ ہے کہ ساری وقف جدید ہمیں دے دی جائے ۔ ماحول قادیان کا مطالبہ یہ ہے کہ ساری وقف جدید آپس میں ضرب دے کر پھر ہمیں دی جائے ۔ یعنی اتنی زیادہ ضرورت ہے کہ کئی گنا بھی وقف جدید کو بڑھا دیا جائے تو وہ ضرورت پوری نہیں ہو سکتی ۔ اس لئے لازما ہمیں کسی طریق ان ضرورتوں کو پورا کرنا ہے ۔ اگر معلم فورا نہیں پیدا کر سکتے تو لٹر پر بھجوا کے کیسٹس بھجوا کے اور اس کے لئے ایک الگ نظام جاری کرنا پڑے گا۔ تو اس لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ اگر باہر کی دنیا کو موقع ملے تو ایک عظیم الشان وقت کی ضرورت ہے جسے پورا کرنے کی توفیق ملے گی اور دوسرے یہ کہ کوئی وجہ نہیں کہ باہر کے احمدی پاکستان اور ہندوستان کی دینی خدمتوں سے محروم رہیں جبکہ ہندوستان اور پاکستان کے احمدی کبھی بھی بیرونی خدمتوں سے محروم نہیں رہے بلکہ ساری دنیا میں جو احمدیت خدا۔ یت خدا کے فضل سے قائم ہوئی ہے اس میں سب سے بڑا کردار، سب سے نمایاں کردار پہلے ہندوستان کے احمدیوں نے اور پھر ہندوستان اور پاکستان کے احمدیوں نے ادا کیا ۔ تو باقی دنیا میں پھیلے ہوئے احمدیوں کو بھی طبعاً یہ طلب ہونی چاہئے کہ ہم کیوں ان علاقوں کی خدمت سے محروم رہ جائیں جنہوں نے ایک زمانہ میں عظیم الشان قربانیاں کر کے ساری دنیا میں اسلام کا بول بالا کیا ہے۔ اس قدرتی جذبے کا بھی تقاضا یہی ہے کہ ان تحریکوں کو ساری دنیا پر پھیلا دیا جائے ۔ ا اور ہے بہت معمولی رقم مثلاً انگلستان کے لئے میں سمجھتا ہوں کہ ایک پونڈ فی آدمی سال بھر میں دینا کوئی مشکل کام نہیں اور یہ جو کم سے کم معیار ہے اس میں بچے ایک ایک پونڈ دے کر شامل