خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 95
خطبات طاہر جلد۴ کے لئے ایک نیا ذریعہ ہے“ 95 خطبه جمعه ۱۸ فروری ۱۹۸۵ء (The Mission p۔234) یہ 1862 ء کی بات ہے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عنفوان شباب کے دن تھے۔ 1862 ء ہی میں لارڈ یا میں لارڈ پامرسٹن وزیر اعظم انگلستان نے اس بارہ میں اپنے خیال کا اظہار ان الفاظ میں کیا : میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہم سب اپنے مقصد میں متحد ہیں یہ ہمارا فرض ہی نہیں ، بلکہ خود ہمارا مفاد بھی اس امر سے وابستہ ہے کہ ہم عیسائیت کی تبلیغ کو جہاں تک ہو سکے فروغ دیں اور ہندوستان کے کونے کونے میں اس کو پھیلائیں“ (The Mission, p۔234) پس یہ تھے انگریزی حکومت کے مفادات ہندوستان میں جن کے متعلق آج یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ مفادات جماعت احمدیہ کے سپرد کئے گئے کہ وہ ان انگریزی مفادات کی حفاظت کریں۔ حالانکہ یہ وہ دور ہے جس میں بڑی تیزی کے ساتھ ہندوستان میں شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک عیسائی مشنریوں کا ایک جال پھیلا دیا گیا تھا ۔ یہ وہ دور ہے جبکہ مسلمانوں کی دفاعی قوت بالکل ختم ہو چکی تھی اور کوئی نہیں تھا جو مسلمانوں کی طرف سے عیسائیت سے ٹکر لے اور ان پادریوں کے دجل کا پردہ چاک کر سکے ۔ یہ وہ دور تھا جبکہ بڑے بڑے معزز خاندان حتی کہ بعض سید زادے اور بڑے بڑے علماء اور سجادہ نشین اور پیر فقیر بھی حلقہ بگوش عیسائیت ہورہے تھے اور اسلام کے خلاف نہایت گندی کتابیں لکھنے لگے تھے ۔ ۔ یہ وہ دور تھا جبکہ پادری فنڈر نے نیہ نیز پادری عمادالدین اور بعض دو ں دوسرے عیسائی پادریوں نے جو اسلام سے مرتد ہو کر عیسائیت قبول کر چکے تھے ( مثلاً مولوی حمید اللہ خان ، مولوی عبداللہ بیگ ، مولوی حسام الدین بمبئی ، مولوی قاضی صفدر علی اور مولوی عبد الرحمن وغیرہ ) اسلام کے خلاف اتنی گندی کتابیں شائع کیں اور بانی اسلام کے خلاف ایسا خوفناک زہرا گلا کہ جس نے بعض ہندو اخبارات ( مثلا شمس الاخبار لکھنو ۱۵ اکتوبر ۱۸۷۵ء جلد نمبر ۵) کو بھی یہ لکھنے پر مجبور کر دیا کہ ایک غدر تو 1857ء کا تھا اب اگر اس دور میں کوئی غدر ہوا تو وہ ان پادریوں کے ان گندے حملوں کا نتیجہ میں رونما ہو گا جو یہ لوگ اسلام پر کر رہے ہیں مثلاً امہات المؤمنین کے نام سے ایک انتہائی دل آزار اور گندی کتاب شائع ہوئی جس میں آنحضرت علی اور آپ کی ازواج مطہرات کے صلى الله علوم