خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 1011 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 1011

خطبات طاہر جلد۴ 1011 خطبه جمعه ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۵ء خوب اچھی طرح اپنے پاؤں پر کھڑی ہو گئی۔ جہاں تک ہندوؤں میں تبلیغ کا تعلق ہے شروع کے چند سالوں میں ہمیں باوجود بہت کوشش کے کوئی پھل نہیں ملا ۔ خصوصاً وہ علاقے جہاں ہندو قو میں زیادہ آباد ہیں وہاں کئی قسم کے ایسے مسائل تھے جن کے ساتھ نپٹنا ہمارے بس کی بات نہیں تھی اور پھر اجنبیت اتنی تھی اور اسلام کے خلاف ان پسماندہ اقوام میں جن میں زیادہ تر ہند و ملتے ہیں ایک دوری اس وجہ سے بھی پائی جاتی تھی کہ ان علاقوں کے مسلمانوں کا ان سے اچھا سلوک نہیں تھا۔ مثلاً زیادہ تر سندھ میں یہ پسماندہ قومیں آباد ہیں جن کی بڑی بھاری اکثریت ہندو ہے۔ یہ مزدور پیشہ لوگ ہیں اور سندھ کے مختلف علاقوں میں موسم کے لحاظ سے آتے اور جاتے رہتے ہیں ۔ ان کا اصل بنیادی ٹھکا نہ تھر ہیں یعنی وہ ریگستانی علاقہ جو سندھ اور ہندوستان کے درمیان واقع ہے۔ کہیں بارڈر سے پچاس میل تک اندر آ گیا ہے یعنی تھر کا ریگستانی علاقہ ۔ کہیں کم ہو گیا ہے ۔ بہر حال ایک بہت چوڑی بیلٹ (Belt) ہے جو پاکستان کے زرخیز علاقے کو ہندوستان کے بارڈر سے الگ کرتی ہے۔ اور اس ساری بیلٹ (Belt) میں اگر چہ ایک حصہ میں مسلمان بھی آباد ہیں مگر بھاری اکثریت انہی پسماندہ ہندو اقوام کی ہے۔ ان کے ساتھ دو طرح سے بدسلوکی ہوئی۔ ایک تو یہ کہ جب یہ لوگ مزدوری کے لئے زمینداروں کے پاس جاتے تھے تو ان کے ساتھ اچھا معاملہ نہیں ہوتا تھا اور جہاں بھی بس چلا ان کی مزدوریاں دبائی گئیں ۔ جہاں بھی کسی کی پیش گئی ان کے اوپر بعض دفعہ جھوٹے مقدمے بھی بنائے گئے ۔ پولیس سے سزائیں بھی دلوائی گئیں اور حتی الامکان بیگار لینے کی کوشش کی گئی ۔ اس لئے ان کے دل میں مسلمانوں کے خلاف ایک تنفر پایا جاتا تھا۔ دوسرے ہندوؤں سے بڑھ کر ان سے مسلمان چھوت چھات کرتے تھے اور یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ کسی اچھوت کو یعنی ان اقوام کے کسی انسان کو اپنے برابر بٹھا ئیں یا ان برتنوں میں یہ بھی پانی پئیں جن میں وہ پیتے تھے یا اپنے برتنوں میں ان کو پانی پینے دیں۔ تو پوری طرح چھوت چھات کا سلوک بھی ان سے کیا جا رہا تھا۔ اس لئے جب ہم نے وہاں معلمین بھجوائے تو یہ بہت ہی بدکتے تھے ، اسلام سے گھبراتے تھے اور نتیجہ کئی سال کی کوششوں کے باوجود کوئی ایک بھی پھل نہیں لگا۔ بہر حال حضرت مصلح موعود کی طرف سے بار بار تا کید تھی کہ اس کام کو چھوڑ نا نہیں اور اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا پھر بالآخران کا یہ جمود ٹوٹا ، ان کی نفرت دور ہوئی ۔ محبت اور