خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 3 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 3

خطبات طاہر جلد ۴ 3 خطبه جمعه ۴ جنوری ۱۹۸۵ء نتیجہ میں جماعت خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ایک بالکل نئے انقلابی دور میں داخل ہو جائے گی پس تَقْوَى مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٍ ، ان دونوں کو اکٹھا اس طرح بیان کرنا صاف ظاہر فرماتا ہے کہ یہ دور جب قوموں پر آتا ہے کہ تقوی برسنے لگتا ہے ان پر اور خدا کی رضا نازل ہو رہی ہوتی ہے ایسے دور میں بعض ایسے بد قسمت بھی پیدا ہو رہے ہوتے ہیں جو خدا کے ان پاک بندوں کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک طرف یہ جماعت خدا کی طرف سے نازل کردہ تقوی پر اپنے سارے منصوبوں کی بنیاد رکھتی ہے اور دوسری طرف ان کو مٹانے کے ناپاک منصوبے اس حسد کی آگ پر مبنی ہوتے ہیں جو ان کی ترقی کو دیکھ کر دلوں میں بھڑک رہی ہوتی ہے اور اس آگ ہی میں یہ جاپڑتے ہیں بالآخر اسی آگ کا ایندھن بنا دیئے جاتے ہیں ۔ تو فرمایا ان دونوں حالتوں میں سے کون سی تم قبول کرو گے یہ تو انسان کے بس میں ہے کہ جب دو راستے اس کو دکھا دیئے جائیں تو جو اپنے لئے پسند کرے اسے اختیار کرلے۔ ان آیات نے اتنا کھلا کھلا نقشہ کھینچ دیا ہے آج کل کے حالات کا کہ ایک انسان جس میں کچھ بھی بصیرت ہو اس کے لئے اپنے لئے نجات کا رستہ اختیار کرنا کوئی مشکل کام نہیں رہتا لیکن جیسا کہ ان آیات سے ظاہر ہوتا ہے بد قسمتی سے جب ایسے وقت آتے ہیں تو لوگوں کی آنکھوں کا نور بھی زائل ہو جاتا ہے اور وہ آگ کی تپش ان کے دل و دماغ کی طاقتوں کو بھسم کر دیتی ہے نتیجہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : لا يَزَالُ بُنْيَانُهُمُ الَّذِي بَنَوْا رِيبَةً فِي قُلُوبِهِمْ إِلَّا أَنْ تَقَطَّعَ قُلُوبُهُمْ کہ پھر وہ جو منصوبے بناتے اور عمارتیں تعمیر کرتے ہیں ان کے اندراندرونی طور پر رخنے پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں ان کے اندر دراڑیں آنے لگ جاتی ہیں اور شکوک ان کے اندر سے جنم لینے لگتے ہیں اور ان کے یقین کی حالت شک وشبہ میں تبدیل ہونے لگتی ہے ایک ایسا وقت آتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم غالباً اب کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ اور وہ جو کیفیت ہے وہ بڑھتے بڑھتے اتنا خوفناک دباؤ اختیار کر لیتی ہے اندرونی طور پر کہ فرماتا ہے إِلَّا أَنْ تَقَطَّعَ قُلُوبُهُمْ کہ قریب ہوتا ہے کہ پھر ان کے دل اس اندرونی دباؤ سے پھٹ پڑیں ۔ تو ان کے لئے محض آسمان سے نازل ہونے والی آفات ہی نہیں قلبی حالتوں سے پیدا ہونے والی آفات بھی ہیں ، ان کا باہر بھی بد نصیب ہے اور انکا باطن بھی بد نصیب ہے۔ اور بظاہر جو لوگ دیکھتے ہیں کہ یہ کامیابی کی طرف