خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 93 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 93

خطبات طاہر جلد ۳ 93 خطبه جمعه ۱۰ فروری ۱۹۸۴ء رجوع کرنا، بدی چھوڑ کر نیکی کی طرف قدم آگے بڑھانا ۔ تو بہ ایک موت چاہتی ہے جس کے بعد انسان زندہ کیا جاتا ہے اور پھر نہیں مرتا۔ تو بہ کے بعد انسان ایسا بن جاوے کہ گویا نئی زندگی پا کر دنیا میں آیا ہے۔ نہ اس کی وہ چال ہو، نہ اس کی وہ زبان ، نہ ہاتھ، نہ پاؤں سارے کا سارا نیا وجود ہو جو کسی اوجود ہو جو کسی دوسرے کے ماتحت کام کرتا ہوا نظر آجاوے۔ دیکھنے والے جان لیں کہ یہ وہ نہیں یہ تو کوئی اور ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ یقین جانو کہ تو بہ میں بڑے بڑے ثمرات ہیں ۔ یہ برکات کا سرچشمہ ہے۔ در حقیقت اولیاء اور صلحاء یہی لوگ ہوتے ہیں جو توبہ کرتے اور پھر اس پر مضبوط ہو جاتے ہیں ۔ وہ گناہ سے دور اور خدا کے قریب ہوتے جاتے ہیں ۔ کامل تو بہ کرنے والا شخص ہی ولی قطب اور غوث کہلا سکتا ہے۔ اسی حالت میں وہ خدا کا محبوب بنتا ہے اس کے بعد بلائیں جو انسان کے واسطے مقدر ہوتی ہیں مل جاتی ہیں ۔ ( ملفوظات جلد ۳ صفحہ ۱۴۶، ۱۴۷) پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اسی طرح بیعت میں عظیم الشان بات تو بہ ہے جس کے معنے رجوع کے ہیں۔ تو یہ اس حالت کا نام ہے کہ انسان اپنے معاصی سے جن سے اس کے تعلقات بڑھے ہوئے ہیں اور اس نے اپنا وطن انہیں مقرر کر لیا ہوا ہے۔ یہ جو آنحضرت علی نے ہجرت کی تعریف فرمائی ہے یہ اسکے اوپر مزید روشنی ڈال رہے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ آپ فرماتے رماتے ہیں کہ : انسان اپنے معاصی سے جن سے اس کے تعلقات بڑھے ہوئے ہیں اور اس نے اپنا وطن انہیں مقرر کر لیا ہوا ہے گویا کہ گناہ میں اس سے بود و باش مقرر کر لی ہوئی ہے۔ اس وطن کو چھوڑ نا اور رجوع کے معنے پاکیزگی کو اختیار کرنا۔ اب دیکھئے ! اس حدیث کا تصور دوبارہ لائیں کہ آنحضرت ﷺ نے تمثیلی کلام میں اس تو بہ کرنے والے کو ایک وطن سے دوسرے وطن کی طرف جاتے ہوئے دکھایا تھا تو عارف باللہ کے کلام کی