خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 90
خطبات طاہر جلد ۳ 90 خطبه جمعه ۱۰ فروری ۱۹۸۴ء صلى الله صفت ہے کہ آنحضور ﷺ فرماتے ہیں کہ گناہوں کے لئے کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ اگر زمین سے آسمان تک گناہ پھیلے ہوں کسی کے اور اسے یہ توفیق مل جائے کہ مرنے سے پہلے تو بہ کرلے تو اللہ کا یہ وعدہ اس کے حق میں ضرور پورا ہوگا کہ میں تو بہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہوں اور ان کو بخش دیتا ہوں ۔ لیکن تو بہ کیا ہے اس کے متعلق آگے میں ذکر کروں گا کہ تو بہ یہ نہیں ہے کہ منہ سے تو بہ کر لی جائے اور پھر گناہ جان کر کئے جائیں اور ان پر جرات کی جائے ۔ تو بہ کے لئے ایک قلبی کیفیت ہے جو بالکل انسان کی کایا پلٹ دیتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون پر کافی روشنی ڈالی ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت درج ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ ایک شخص نے ننانوے قتل کئے ۔ وہ جو مضمون چل رہا تھا کہ گناہ کتنے ہو جائیں تو بخشے جائیں گے کتنے بڑھ جائیں تو پھر اللہ نہیں بخش سکتا یہ کسی کو وہم پیدا ہو تو اس کے رد کے لئے یہ صلى الله فرمان نبوی ہے۔ یہ اور بھی کئی کتب میں کئی طریقوں سے مروی ہے بہت کثرت سے یہ حدیث مروی ہے۔ آ ا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرما ﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص نے ننانوے قتل کئے پھر لوگوں سے پوچھنے لگا کہ کیا اس کے لئے تو بہ کی کوئی گنجائش باقی ہے؟ چنانچہ وہ ایک راہب کے پاس آیا اور اس سے اس نے پوچھا کہ کیا میرے لئے بھی کوئی تو بہ کی گنجائش ہے؟ میں نے ننانوے قتل کئے ہیں تو راہب نے جواب دیا کہ نہیں تیرے لئے کوئی گنجائش نہیں۔ وہ اپنے رب کی طرح تو اب نہیں تھا نہ بندوں پر تو اب بن سکتا تھا۔ تو اس شخص نے جب اس سے یہ سنا کہ اس کے لئے تو بہ کی گنجائش ہی کوئی نہیں تو اس نے ۔ نے سوچا صلى الله عليه جہاں اننانوے ننانو ۔ قتل وہاں سوا ایک ہی بات ہے چنانچہ اسی راہب کو قتل کر دیا اور آنحضرت علیہ فرماتے ہیں کہ اس کے سو قتل پورے ہو گئے یعنی ایک درجہ کمال تک پہنچ گیا گناہ ۔ یہ دراصل تمثیل ہے اس بات کو ظاہر کرنے کے لئے ننانوے اور سو کے درمیان جو ایک کا فرق ہے وہ ایک چیز کو درجہ کمال تک پہنچا دیتا ہے تبھی آپ نے کرکٹ میں دیکھا ہوگا کہ ننانوے رنز کے اوپر اگر کوئی آؤٹ ہو جائے تو اس کو زیادہ صدمہ ہوتا ہے بہ نسبت اس کے کہ ستر رنز پر کوئی آؤٹ ہو کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ درجہ کمال تک پہنچنے لگا تھا رہ گیا ۔ سو درجہ کمال کا مظہر ہے۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ لاہور میں مقصود نے انڈیا کے خلاف ۹۹ رنز بنائے اور آؤٹ ہو گیا تو ایک کرکٹ کا ایک عاشق بچہ یہ خبر سن کر ریڈیو پر وہیں مر گیا ، Heart فیل ہو گیا اس کا تو