خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 84 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 84

خطبات طاہر جلد ۳ 84 خطبه جمعه ۱۰ فروری ۱۹۸۴ء کے بعد توبہ کرلے گا اور اصلاح کرلے گا تو خدا کی صفت یہ ہے کہ وہ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔ دوسری آیات الفرقان سے لی گئی ہیں جس کا ترجمہ یہ ہے کہ سوائے اس کے کہ جس نے تو بہ کر لی اور ایمان لایا اور ایمان کے مطابق عمل کئے ، پس یہ لوگ ایسے ہوں گے کہ اللہ ان کی بدیوں کو ں سے بدل دے گا اور اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے اور جو توبہ کرے اور اس کے مطابق عمل کرے نیکیوں تو وہ شخص حقیقی طور پر اللہ کی طرف جھکتا ہے۔ ان دونوں آیات کا مفہوم تقریباً ایک ہی ہے صرف تھوڑا سا فرق یہ ہے کہ پہلی آیت میں تو آنحضرت ﷺ کو یہ فرمایا گیا کہ وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں جب تیرے پاس آئیں تو ان پر سلام بھیج اور ان سے وعدہ کر کہ خدا تعالیٰ نے تم پر رحمت کرنا اپنے پر فرض کر لیا ہے بشرطیکہ تم تو بہ کرو اور دوسری صورت میں ان لوگوں کے لئے خوشخبری دی گئی ہے جو پہلے تو بہ کریں اور پھر ایمان لائیں یعنی ایسے کفار پیش نظر ہیں جن کو یہ وہم پیدا ہو کہ ہم تو اتنے گناہ کر بیٹھے ہیں کہ ہمارے لئے بخشش کی کوئی راہ نہیں ان کے لئے بھی خوشخبری دی گئی کہ اگر تم اپنے سابقہ جرائم سے تو بہ کر لو اور پھر ایمان لے آؤ تو تم بھی انہیں لوگوں سے جاملو گے جن کے متعلق یہ خوشخبریاں دی گئی ہیں ۔ گزشتہ چند خطبات میں میں نے اللہ تعالیٰ کی صفات سے متعلق احباب جماعت کو توجہ دلائی تھی کہ خدا تعالیٰ کی صفات کو اختیار کریں تو خصوصاً اس صفت کی رحمت کے وارث بن جائیں گے جس صفت کو وہ اختیار کرتے ہیں۔ چنانچہ اس ضمن میں خدا تعالیٰ کے عفو ہونے اور ستار ہونے کا ذکر پہلے خطبات میں میں کر چکا ہوں اور ان کے نتیجہ میں انسان پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں مثبت اور منفی ان دونوں کا کسی قدر پہلے خطبات میں ذکر ہو چکا ہے۔ آج کے خطبہ کے لئے میں نے خدا تعالیٰ کی صفت تواب کو چنا ہے۔ عفو اورستاری کے ساتھ جس طرح مغفرت کا تعلق ہے اسی طرح صفت تو ابیت کا بھی تعلق ہے اور دراصل مغفرت اور تو ابیت یعنی خدا تعالیٰ کی صفت تو بہ قبول کرنا ، ان کے درمیان ایک گہرا رشتہ ہے۔ مغفرت زیادہ وسیع ہے لیکن توابیت مغفرت کی طرف لے کر جاتی ہے۔ ایک وسیلہ ہے مغفرت تک پہنچانے کا۔ اس مضمون پر کسی قدر تفصیل سے جماعت کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔