خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 820 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 820

شاعر شاعری جماعتی غم میں بعض لوگ شاعر بن گئے ہیں بعض شاعر اپنا انداز کلام کسی شاعر سے ملنے پر فخر کرتے ہیں سرائیکی زبان میں ایک نظم کا ترجمہ شعر 529 298 530 36 رحمتیں تیری ہیں اغیار کے کا شانوں پر پر ترے عہد سے آگے تو یہ دستور نہ تھا ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز اے خدا اے چارہ ساز درد ہم کو خود بچا تیرے بن اے میری جاں یہ زندگی کیا خاک ہے قاصد کے آتے آتے خط ایک اور لکھ رکھوں کتاب میں موجود اشعار بلحاظ تر تیب صفحات کیا میرے دلدار تو آئے گا مر جانے کے بعد دیکھ سکتا ہی نہیں میں ضعف دین مصطفیٰ 112 شور کیسا ہے تیرے کوچے میں لے جلدی خبر شور کیسا ہے ترے کوچے میں لے جلدی خبر 112 پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق در دو عالم مرا عزیز توئی اے محبت عجب آثار نمایاں کر دی ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد دریائے معاصی تنگ آبی سے ہوا خشک دل بھی تیرے ہی ڈھنگ سیکھا ہے عدو جب بڑھ گیا شور وفغاں میں اگر تیرا بھی کچھ دیں ہے تو بدل دے جو میں کہتا ہوں لوائے ما پنہ ہر سعید خواهد بود تم دیکھو گے کہ انہی میں سے قطرات محبت ٹپکیں گے قومی هم قتلوا اميمة اخي 113 117 127 127 148 148′206 248 266 266 270 تنزل کی حد د یکھنا چاہتا ہوں وہ آئیں مرگ شادی ہے نہ آئیں مرگ نا کامی ہم جس پہ مر رہے ہیں وہ ہے بات ہی کچھ اور ان کو آتا ہے پیار پر غصہ حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا الا ايها الليل الطويل انجلي خوب کھل جائے گا لوگوں پر کہ دیں کس ہے دیں جان و دلم فدائے جمال محمد است ایں چشمہ رواں کہ مخلق خداد ہم ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو 274 سب ہم نے اس سے پایا شاہد ہے تو خدایا اے دل تو نیز خاطر اینا نگاه دار اس نور پر فدا ہوں اس کا ہی میں ہوا ہوں ز آہ زمرہ ابدال بایدت ترسید نہ ہوا پر نہ ہوا میر سا انداز نصیب چمن میں ہر طرف بکھری پڑی ہے داستان میری 279 287 299 309 اندھے کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجھی وہ ارادے ہیں کہ جو ہیں بر خلاف شہریار غموں کا ایک دن اور چار شادی جب سونا آگ میں پڑتا ہے تو کندن بن کے نکلتا ہے 314 مولانا سید شاہ محمد صاحب مبلغ انڈو نیشیا 388 398 431 441 441 447 455 455 480 521 531 532 565 567 633 717 726 726 726 726 748 759 777 295 صادفتهم قوما كروث ذلة 315 چوہدری شاہ نواز صاحب بانی شیزان انٹرنیشنل 615 تیرے منہ کی ہی قسم میرے پیارے احمد 320 قاضی شریح 629 ہیں تیری پیاری نگاہیں دلبرا ایک تیغ تیز پیار کرنے کا جو خوباں ہم پہ رکھتے ہیں گناہ که سنگ و خشت مقید ہیں اور سنگ آزاد 345 شریعت 374 376 شریعت اللہ بناتا ہے انسان نہیں شریعت سچائی کا نام ہے 449 224