خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 72
خطبات طاہر جلد ۳ حیا ٹوٹتی چلی جاتی ہے۔ 72 خطبه جمعه ۳ فروری ۱۹۸۴ء چنانچہ جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا اس کے مقابل پر جو مثبت صفات آنحضرت علی نے آپس کے تعلق میں بیان کی ہیں ان میں خدا کو حیا دار قرار دیا اور عفو قرار دیا یعنی عفو ، حیا اور ستاری جس طرح ان تینوں کا جوڑ ہے ان تینوں کے ہٹنے سے حیا کی کمی یعنی بے حیائی پیدا ہوتی ہے اور اس کے نتیجہ میں بہت سی بدکرداریاں آتی ہیں ۔ بہت بڑے گناہگار بن جاتے ہیں یہ لوگ عُتُلٍ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ اور بے باک کلام کرتے ہیں کوئی لگام نہیں ہوتی ان کی زبانوں پر اور پھر اس کے نتیجہ میں زَنِیم پیدا ہونے لگ جاتے ہیں۔ زنیم معنوی لحاظ سے اس شخص کو کہتے ہیں کہ ہو کسی اور کا اور کسی اور کی طرف منسوب ہو جائے یعنی خدا کا بندہ شیطان کا بندہ بن جائے ہے اس کے لئے بھی لفظ ر نیم استعمال ہے اور ظاہری معنوں میں ولد الحرام کو نیم کہتے ہیں یعنی باپ تو کوئی اور ہونا چاہئے لیکن واقعہ کوئی اور باپ ہے۔ تو ان سوسائٹیوں میں ، ولد الحرام ظاہری معنوں میں بھی اور باطنی معنوں میں بھی بکثرت پیدا ہونے لگ جاتے ہیں چنانچہ آپ دیکھیں کہ مغربی دنیا میں قرآن کریم کے اس نقشہ کے مطابق اس کثرت سے ولد الحرام پیدا ہو رہے ہیں کہ گزشتہ سال ایک رپورٹ میں نے پڑھی جسمیں لکھا تھا کہ امریکہ میں ہر سال 30 فیصد بچے ولد الحرام پیدا ہو رہے ہیں جتنے بچے پیدا ہو رہے ہیں ان میں سے تیس فیصد ولد الحرام ہیں اور اشترا کی دنیا میں چونکہ شادی بیاہ کے کوئی معنی ہی نہیں اور اخلاقی قید ہی کوئی نہیں ہے انہوں نے اپنی فیصد گنتی چھوڑ دی ہے اور کوئی بعید نہیں کہ پچاس فیصد ساٹھ فیصد یا اس سے بھی زیادہ ولد الحرام پیدا ہور ہے ہوں ۔ تو کیسی عظیم الشان نظر رکھتا ہے قرآن کریم بدیوں پر یعنی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں حیرت انگیز فصاحت و بلاغت کے ساتھ بیماریوں کا نقشہ کھینچا ہے اور ایک بیماری سے دوسری بیماری پیدا ہوتی ہے، دوسری سے تیسری ، تیسری سے چوتھی اور پھر ساری سوسائٹی بدیوں سے بھر جاتی ہے۔ اور یہاں بھی فرمایا أَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَبَنِينَ کہ وہ مالدار اور صاحب طاقت ہے۔ بَنِينَ سے مراد ہے جس کی نفری زیادہ ہو جس کی قوت زیادہ ہو تو اس کے نتیجہ میں اس میں تکبر پیدا ہو جاتا ہے إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِ ايْتُنَا قَالَ أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ (القلم:١٦) جب