خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 764 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 764

خطبات طاہر جلد ۳ 764 خطبه جمعه ۲۸ دسمبر ۱۹۸۴ء مرتبہ اور احمدیت کے استیصال کی ایک نہایت ہی خوفناک سازش ہے اور صرف ایک ملک میں نہیں تمام عالم میں اس سازش کے کچھ آثار ظاہر ہونے شروع ہو گئے ہیں اور ان کی کڑیاں مل رہی ہیں مثلاً انڈونیشیا میں بھی اسی نہج پر کام شروع ہو گیا ہے جس طرح آج سے دس سال پہلے پاکستان میں اس کی بنیاد رکھی گئی تھی ۔ ملائیشیا میں بھی انہی بنیادوں پر کام شروع ہو چکا ہے جماعت احمد یہ کے خلاف اسی طرح افریقن ممالک کو بھی رشوتیں دی جا رہی ہیں اور روپے کا لالچ دے کر ان کو اکسایا جا رہا ہے کہ جماعت کے خلاف اقدامات کریں اور ان ممالک کے ذمہ دار افسران چونکہ نسبتاً بہت زیادہ شریف النفس ہیں وہ سر دست تو اس دباؤ کا مقابلہ کر رہے ہیں بلکہ خود جماعت کو مطلع کر رہے ہیں کہ ہم سے یہ مطالبات ہو رہے ہیں اور یہ صرف جماعت احمدیہ کے خلاف سازش نہیں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ایک سازش ہے عالم اسلام کے خلاف جس کا مقصد یہ ہے کہ ملا کی حکومت تمام مسلمان ممالک پر قائم کر دی جائے اور ملا چونکہ زمانہ کے حالات سے بے خبر اور جاہل ہوتا ہے، اسے پتہ ہی نہیں کہ کسی قوم کے مفادات کا تقاضا کیا ہے ، اس کو تو صرف اپنے ذاتی مقاصد سے غرض ہے اور نہ قرآن کا علم نہ دین کا علم اور نہ دنیا کا علم اس لئے اگر ایک جاہل قوم کو مذہب کے نام پر کسی ملک پر مسلط کر دیا جائے تو پھر وہ آقا جوان لوگوں کو مسلط کرتے ہیں وہ بے دھڑک جو چاہیں ان سے کام لیتے ہیں۔ چنانچہ عجیب بات ہے کہ ہر جگہ جہاں بھی مذہبی جنونی حکومت قائم کی گئی ہے خواہ وہ اشتراکی ملکوں کی طرف سے قائم کی گئی ہو خواہ وہ مغربی ملکوں کی طرف سے قائم کی گئی ہو ایک ہی دین کے نام پر بالکل برعکس سمت میں وہ حکومتیں حرکت کر رہی ہیں یعنی ایسی اسلامی حکومتیں آپ کو ملیں گی جو اسلام کے نام پر اشتراکیت کے حق میں کام کر رہی ہیں اور ایسی اسلامی حکومتیں بھی آپ کو ملیں گی جو اسلام کے نام پر اشتراکیت کے خلاف اور آمریت یا مغربی جمہوریت کے حق میں کام کر رہی ہیں یا Capitalism کے حق میں کام کر رہی ہیں ۔ ایک ہی مذہب ہے، ایک ہی کتاب ہے، ایک ہی نبی ہے لیکن بالکل برعکس نتیجے نکالے جا رہے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ جن لوگوں کو او پر لایا گیا ہے خاص مقاصد کی خاطر لایا گیا ہے اسلام کا نام محض بدنام کرنے کے لئے استعمال ہو رہا ہے۔ مقصد یہ ہے Intolerant Regimes قائم کی جائیں ۔ ایسی حکومتیں قائم کی جائیں جن کے اندر نہ عقل ہو، نہ فہم ہو صرف ایک بات پائی جائے ایک خوبی ان میں موجود ہو کہ وہ ڈنڈے کے زور سے اپنی بات