خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 747
خطبات طاہر جلد ۳ 747 خطبه جمعه ۲۱ دسمبر ۱۹۸۴ء اصلى الله کرنے تھے اور دشمن کو بھی مجبور نہیں کیا جاسکتا ایمان لانے پر ۔ ( صحیح بخاری کتاب الشروط باب شروط الجہاد والمصالحة مع اہل الحرب وكتابه ) یہ لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ ( البقرہ: ۲۵۷) کی ایک اور لطیف تشریح تھی کہ دین میں ادنی سا بھی جبر نہیں ۔ جب غیروں سے معاہدہ کرو گے، جب ان کو تحریروں پر دستخط کرنے پر مجبور کرو گے کیونکہ معاہدوں میں تو دونوں طرف سے دستخط ہوا کرتے ہیں اس لئے تو پھر وہاں بھی تمہیں جبرا اپنے دین کے عقائد ان پر ٹھونسنے کا کوئی حق نہیں ۔ اتنا عظیم الشان اسوۂ رسول محمد مصطفی ہے کہ وہ ساری دنیا کو روشن کرنے کا اہل ہے۔ ان علوم آنکھ کے اندھوں کے لئے وہ بھی اندھیرا ہی ثابت ہو رہا ہے اور یہ نتیجہ نکالا جا رہا ہے کہ نعوذ باللہ من ذلک کلمہ کو مٹا دینا یہ سنت رسول ہے اور صرف یہی نہیں اگر کلمہ بھی ہوتا تو یہ نتیجہ نکالا نہیں جا سکتا جواب یہ نکال رہے ہیں۔ اس صورت میں تو دو فریق یہ بنیں گے، ایک فریق تھا جو کہتا تھا کہ ضرور مٹانا ہے اور وہ مشرکین کا فریق تھا وہ کلمہ کے انکار کرنے والوں کا فریق تھا اور ایک فریق پر ٹھونسا جا رہا تھا کلمہ مٹانا جو کلمہ کو تسلیم کرتا تھا اگر کلمہ مٹانے کی بحث تھی تو پھر یہ نتیجہ نکلے گا کہ ہم مشرکین ہیں یعنی دعویٰ کرنے والے یہ اعلان کریں کہ اے احمد یو! ہم مشرک ہیں ہمارا امام محمد مصطفی اللہ سے کوئی بھی تعلق نہیں اور ہمارے اور تمہارے درمیان یہ قدر مشترک ہے ہی نہیں تم مانتے ہو یہ کلمہ ہم نہیں مانتے اور چونکہ ہمارے ملک کا قانون ہے اس لئے مجبوراً تمہیں جھکنا پڑے گا اور اپنے رسول کی سنت پر عمل کرتے ہوئے یہ مٹانے پر آمادہ ہو جاؤ۔ پھر تو یہ گزارش کرنی چاہئے ان کو ۔ ان کو کلمہ مٹانے کا کیسے حق ملا ؟ ہم تو مخالفت نہیں کر رہے کلمہ کی ۔ آنحضرت ﷺ نے تو اگر مٹایا بھی تھا جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کلمہ کی بحث نہیں تھی مگر جو کچھ بھی تھا لفظ رسول اللہ بھی مٹایا تو دشمن کے اصرار پر وہ یہ کہتا تھا کہ معاہدے کی شکل میں ہم اس پر دستخط نہیں کر سکتے ، ہم مجبور ہو جائیں گے تمہیں رسول اللہ تسلیم کرنے پر ۔ آپ نے فرمایا ٹھیک ہے نہ تسلیم کرو یہ تمہارا حق ہے۔ لیکن اگر وہی صورت حال یہاں ان کو چسپاں ہوتی دکھائی دے رہی ہے تو یہ پھر کفار مکہ کے نمائندہ بن گئے اور ہمیں محمد مصطفی علی کے ساتھ باندھ رہے ہیں جن سے کاٹنے کی کوشش کر رہے ہیں ان کے ساتھ ہمیشہ کے لئے وابستہ کر رہے ہیں اور یہ مثال دے رہے ہیں کہ دیکھو جب دشمن پسند نہ کرے کلمہ لکھنا تو محمد مصطفی ﷺ کی سنت یہ ہے کہ دشمن کے دباؤ کو مان لیا کرتے ہیں اس لئے تم بھی ہمارا دباؤ مان جاؤ ۔ اپنے آپ کو ان ائمہ کے پیچھے لگا لیا جو کفار مکہ کہلاتے صلى الله صلى الله