خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 730 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 730

خطبات طاہر جلد ۳ 730 خطبه جمعه ۱۴ / دسمبر ۱۹۸۴ء کے فرشتے پاکستان کی اکثریت کو ان کے اوپر چلا آرہی ہے اور وہ ان کو اُکسا رہے ہیں۔ یقیناً یہ خدا کے فرشتے ہیں جو اُکسار رہے ہیں کہ اُٹھو اور جواب دو اس معصوم جماعت کی طرف سے جن کی زبانیں میں نے روکی تھیں۔ اٹھو اور صبر کے پیمانے توڑ دو اس جماعت کی طرف سے جن کو اپنے صبر کے پیمانوں کی حفاظت کی میں نے تلقین کر رکھی ہے۔ عجیب نشان ہے خدا تعالیٰ کا ! صرف یہی نہیں بلکہ صدر پاکستان کے متعلق اتنی گندی زبان استعمال کی گئی کہ سارے پاکستان کی تاریخ میں کبھی کسی صدر کے متعلق چھوڑ کے کسی گندے جانور کے متعلق بھی ایسی گندی زبان استعمال نہیں کی گئی۔ آپ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ وہ کیا زبان تھی جو وہاں استعمال ہوئی اور میں بھی نہیں چاہتا تھا کہ دنیا کو علم ہو، دنیا کو بتاؤں ۔ ہمیں تو سب Cassette Tape مل جاتی ہیں، تمام خبریں پہنچ رہی ہوتی ہیں لیکن مناسب نہیں سمجھتا تھا لیکن ہمارے آقا و مولا پر ایسا گندہ حملہ کیا گیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گستاخ رسول قراردینا! حد ہوتی ہے کسی چیز کی ۔ تو میری زبان تو اب بھی جواباً کوئی گالی نہیں دے گی مگر میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کو یہ دنیا کس طرح یاد کر رہی ہے؟ آپ کے ملک کے لوگ کس طرح یاد کر رہے ہیں؟ سندھ کی گلیاں اور سندھ کے بازار اور سندھ کے کھیت اور سندھ کے ویرانے اور سندھ کی آبادیاں آج آپ کو کیا کہہ رہی ہیں اور بلوچستان کی زبان میں آپ کا کیا نام ہے، اور پنجاب کے یہ جیالے جواہل سنت کہلاتے ہیں جو عشق رسول کا دعویٰ کرتے ہیں ان کی زبان پر آپ کے لئے کیا نام ہے؟ اس طرف بھی نگاہ کیجئے ! پھر اگر یہ بات درست ہے کہ جو باپ کے خلاف گستاخی کو برداشت نہیں کر سکتا اور قتل کر دیتا ہے تو پھر وہ دیو بندی وہ وہابی جو آج آپ کو امیر المومنین کہہ رہے ہیں جو آپ کو باپ سے بڑا مقام دے رہے ہیں آج ان کو یہ پھر تلقین ہونی چاہئے کہ ان کا قتل و غارت شروع کر دیں ، صدر مملکت کی طرف کھلی اجازت ہونی چاہئے کہ ایک طرف تو مجھے امیر المومنین سمجھتے ہو ایک طرف تم مجھے اتنی عزت دے رہے ہو کہ وہ سارے مسائل جو دنیا میں کوئی حل نہیں کر سکا میں نے حل کر دیئے ، اب کیوں سن رہے ہو میرے خلاف ایسی گندی زبان؟ فوج کی طاقت آپ کے ساتھ ہے، ان احراری ملاؤں کی طاقتہ آپ کے ساتھ ہے، اٹھیں اور پھر جواب دیں اور اپنے دعووں کو سچا کر دکھا ئیں کہ جسے محبت ہو، جس کو باپ کا مقام دیا جائے اس کے خلاف انسان بات برداشت نہیں کر سکتا ۔ اس وقت آپ کہاں چلے