خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 728
خطبات طاہر جلد ۳ 728 خطبه جمعه ۱۴ دسمبر ۱۹۸۴ء پھر آگے یہ کہنا کہ جو گالیاں دیتے ہیں ان کو ہم ایسا کریں گے نعوذ باللہ من ذلک جماعت احمد یہ کے تو دستور میں ہی گالی نہیں ہے۔ جماعت احمدیہ کی تو سرشت ہی اس بات سے ناواقف ہے کہ دوسرے کو گالیاں دی جائیں۔ ہمارا سارا کردار سب کے سامنے روشن پڑا ہے اللہ کے فضل سے سو سالہ تاریخ میں گالیاں دینے والے تو ہمارے مخالف ہیں ، گالیاں دینے والی تو خود یہ حکومت ہے جو صفحوں کے صفحے سیاہ کرتی چلی جارہی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کو گالیاں دیتے ہوئے اور ساری دنیا میں مشتہر کر رہی ہے، اور اس بات پر فخر کر رہی ہے کہ یہ اسلام کی خدمت ہو رہی ہے تو جماعت احمدیہ کی تو ساری تاریخ گواہ ہے کہ نہ کبھی جماعت گالیوں کی قائل ہوئی ، نہ کبھی ایسی گندگیوں میں ملوث ہوئی، نہ اس رویے کو انسانی اقدار کے مطابق قابل قبول سمجھتی ہے ۔ جماعت احمد یہ جس مذہب سے وابستہ ہے ، جس رسول سے وابستہ ہے ،جس آقا ومولا کے عشق کے دعوے کرتی ہے ان کا دھیان کر کے تو زیب ہی نہیں دیتا کسی احمدی کو کہ وہ گندی گالیوں میں ملوث ہو جائے یا گستاخیوں میں ملوث ہو کجا یہ کہ آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخی کرے۔ صلى الله علوسه خدا تعالیٰ کی عظمت کی قسم کھا کر ہم کہتے ہیں خدا کے جتنے بھی مقدس نام ہیں ان سب ناموں کی قسم کھا کر کہتے ہیں ، ان ناموں کی بھی جو دنیا کو معلوم ہیں اور ان مقدس ناموں کی بھی جن کی صلى الله اوس کنہ اور جن کی انتہا کا کس کو کوئی علم نہیں کہ ہم حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے سر سے پاؤں تک عاشق ہیں ، آپ کے قدموں کی خاک کے بھی عاشق ہیں۔ اس زندگی پر ہم لعنت بھیجتے ہیں جو حضرت صلى الله خدا! فرما اور مصطفی ﷺ کے تعلق سے عاری ہو۔ اگر یہ الزام سچ ہے تو اے خدا ہم پربھی لعنتیں نازل ہماری نسلوں پر قیامت تک لعنتیں کرتا چلا جا کیونکہ حضرت محمد مصطفی اللہ سے دوری کا ہم کوئی تصور نہیں کر سکتے۔ یہی وہ لعنت ہے، اس لعنت کو ہم کسی قیمت پر قبول کرنے کے لئے تیار نہیں اور اگر یہ جھوٹ ہے تو پھر قرآن کریم کی زبان سے زیادہ میں اور کوئی زبان استعمال نہیں کرتا کہ نَّعْنَتَ اللهِ عَلَى الْكَذِبِينَ ، لَعْنَتَ اللهِ عَلَى الْكَذِبِينَ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَذِبِينَ اب یہ آسمان کا خدا بتائے گا اور آنے والی تاریخ بتائے گی کہ آسمان کسی پر لعنتیں برسا رہا ہے اور کس پر رحمتیں نازل فرماتا ہے؟ کس کو عزت اور شرف سے یاد رکھا جاتا ہے اور کس کو ذلت اور نامرادی کے ساتھ یا د رکھا جاتا ہے؟