خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 717
خطبات طاہر جلد ۳ 717 خطبہ جمعہ ۷ / دسمبر ۱۹۸۴ء حکومت کو مطمئن کر دیتی ہے کہ یہ خدمت اسلام کا کام ہے تو وہ اپنے خزانے کھول دیتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں لیکن یہ ہم کیسے مان لیں کہ توحید کے علمبردار توحید کی خیرات کھانے والے اس دولت سے جو تو حید کے ہاتھوں انہوں نے پائی ، کلمہ توحید مٹانے میں جد وجہد اور کوشش شروع کر دیں گے ناممکن ہے یہ بات ہو نہیں سکتی ۔ یقیناً دھو کہ دیا جا رہا ہے۔ مگر بہر حال یہ ہو رہا ہے آج کے زمانہ میں اور ضرورت ہے کہ تمام دنیا کو بتایا جائے کہ اس وقت کیا شکل بن رہی ہے پاکستان کی۔ یقیناً یہ پاکستان کو مٹانے اور صفحہ ہستی سے ہمیشہ کے لئے نابود کرنے کی ایک نہایت ہی شیطانی چال ہے کیونکہ یہ تو کوئی مسلمان کمزور سے کمزور بھی ہوا اتنا علم تو اس کو بھی ہونا چاہئے کہ کلمہ توحید کو مٹانے کی سازش خدا کبھی پہننے نہیں دے سکتا، کبھی کامیاب ہونے نہیں دے سکتا اگر کوئی ملک اس سازش میں شامل ہو تو وہ ملک پارہ پارہ کر دیا جائے گا مگر کلمہ توحید کو کبھی ٹوٹنے نہیں دیا جائے گا۔ اس لئے جب یہ کلمہ پر حملہ کرتے ہیں تو عوام الناس کو پتہ نہیں کہ یہ توحید باری تعالیٰ پر حملہ کر رہے ہیں اور اس ملک پر حملہ کر رہے ہیں جہاں یہ سازش تیار ہو رہی ہے اس لئے بہت ہی گندے دن آنکھوں کے سامنے آرہے ہیں اس بد قسمت ملک کے لئے جہاں یہ ہو رہا ہے اور اس کے خلاف آواز نہیں اُٹھائی جا رہی یا موثر آواز نہیں اٹھائی جا رہی لیکن نہ ان کو پتہ ہے حقیقت میں نہ ان کے سربراہوں اور ان کے مالکوں کو پتہ ہے کہ اللہ کی تقدیر در پردہ کام ضرور کر رہی ہے۔ ان کو ابھی نظر نہیں آرہا کہ کیا ہو رہا ہے لیکن ایک عظیم الشان تقدیر الہی ہے جو باطن میں ایک الٹ رو چلاتی چلی جا رہی ہے۔ کبھی پاکستان کی تاریخ میں یہ واقعہ نہیں ہوا تھا کہ اینٹی احمد یہ تحریک کے دنوں میں کھلم کھلا بعض مساجد سے احمدیت کی تائید میں اعلان ہونے شروع ہو جائیں یا عوام الناس اور صاحب علم طبقہ میں جگہ جگہ یہ باتیں شروع ہو جائیں کہ یہ بیچ پر ہیں اور ان کے مٹانے والے جھوٹ بول رہے ہیں انہوں نے اپنی جہالت میں اب وہاں قدم رکھ دیا ہے جہاں بات کھل چکی ہے اور ویسا ہی مضمون ظاہر ہو رہا ہے کہ خوب کھل جائے گا لوگوں پر کہ دیں کس کا ہے دیں پاک کر دینے کا تیرتھ کعبہ ہے یا ہردوار در ثمین صفحه :۱۵۳)