خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 714
خطبات طاہر جلد ۳ 714 خطبہ جمعہ ۱۷ دسمبر ۱۹۸۴ء پھر ایسے لوگ ہیں وہ جو اپنے آقاؤں کی عزت کا بھی خیال نہیں کرتے جن سے لے کر کھاتے ہیں ان کی بدنامی کرنے میں بھی ان کو کوئی باک نہیں ہے۔ چنانچہ یہی علما جو دیو بندی علما ہیں اس وقت جنہوں نے اپنے ہاتھ میں کلمہ مٹانے کا جھنڈا اٹھایا ہوا ہے یہ اپنی مجالس میں اپنے دوستوں کے سامنے بڑی تعلی سے یہ باتیں کرتے ہیں کہ احمدی ہمارے سامنے کیا چیز ہیں ہمارے ساتھ مذہبی امور کی وزارت ہے، ہم جیل میں بھی ہوں تو ٹیلیفونوں پر ہمارے رابطے ہوتے ہیں وزراء سے اور وہ ہمیں پیغام در ام دیتے ہیں اور وہ ہمارے ناسبین ۔ رے نائبین کے طور پر کام کرتے ہیں ۔ یہ احمدی کیا اور ان کا کلمہ کیا یہ ان کی طاقت کی باتیں یہ سب قصے ہیں پوری حکومت کی مشینری ہمارے ساتھ ہے یعنی اپنے فخر اپنی تعلی میں اتنا خوف بھی نہیں کرتے ، اتنی حیا بھی نہیں کرتے کہ جن کے ہاتھ سے لیکر ہم کھا رہے ہیں ان کی عزت کا خیال کریں ، ان کو کیوں بدنام کرتے ہیں؟ وہ حکومت جو ساری دنیا میں یہ اعلان کر رہی ہے کہ ہمارا کوئی تعلق نہیں ، ہم مجبور ہیں، مولوی ہمیں تنگ کر رہا ہے اسی حکومت کے متعلق وہی کارندے کھلم کھلا فخر سے بیان کرتے پھر رہے ہیں اور یہ عام بات پھیلتی چلی جارہی ہے اور ہر دنیا کے انسان کو معلوم ہوتی چلی جا رہی ہے کہ یہ کہانی یہ قصہ کیا ہے یہ ڈرامہ کیا کھیلا جا رہا ہے؟ چنانچہ عجیب و غریب باتیں یہ خود مشہور کرتے ہیں ۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس میں کہاں تک صداقت ہے لیکن جو کچھ پیچھے ہوتا رہا ہے اس کو سمجھنے کیلئے یہ چابیاں ضرور تھما دیتے ہیں ۔ چنانچہ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ ہمیں تو وزارت مذہبی امور کی طرف سے با قاعدہ ہدایت ملی ہے کہ تم لوگ کھلم کھلا حکومت کو بھی بے شک گالیاں دو اور یہ اعلان کرو کہ اگر ضیاء نے یا گورنر صاحب نے ہماری بات نہ مانی تو ہم خون کی ندیاں بہا دیں گے تا کہ حکومت کے ہاتھ میں کوئی جواز تو آئے ایسے مزید قوانین پاس کرنے کا جن کی رو سے کلمہ لکھنا ایک جرم عظیم سمجھا جائے گا اس لئے ہم جب کھلم کھلا کہتے ہیں تو مجال نہیں ہے پولیس کی کہ ہمارے اوپر ہاتھ ڈال سکے کیونکہ حکومت کہتی ہے کہ گالیاں دو اور یہ ظاہر کرنے کے لئے گالیاں دو کہ تمہارا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔ ایک طرف حکومت بیچاری کو اپنی عزت کی فکر ہے اور دنیا کی نظر میں ذلیل نہ ہونے کا ایسا خیال ہے کہ اپنے وطن میں گالیاں کھا رہی ہے اور دوسری طرف یہ کارندے ایسے بے نصیب اور بے حیا بیچارے ہیں کہ جس عزت کی خاطر وہ گالیاں کھا رہے ہیں اس عزت کو خود سے لٹا رہے ہیں اپنے ہاتھوں سے، گالیاں بھی دے رہے ہیں