خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 65
خطبات طاہر جلد ۳ 65 خطبه جمعه ۳ فروری ۱۹۸۴ء سورۃ الھمزہ کی تفسیر اور پیشگوئیاں ( خطبه جمعه فرموده ۳ فروری ۱۹۸۴ء بمقام مسجد اقصی ) تشہد و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کے بعد حضور نے سورۃ الھمزہ کی تلاوت فرمائی: وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ إِنْ الَّذِي جَمَعَ مَالًا وَعَدَّدَهُ يَحْسَبُ أَنَّ مَا لَهُ أَخْلَدَهُ كَلَّا لَيُنْبَذَنَّ فِي الْحُطَمَةِ ۔ وَمَا أَدْرَيكَ مَا الْحُطَمَةٌ قُ نَارُ اللَّهِ الْمُوْقَدَةُ الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْدَةِ إِنَّهَا عَلَيْهِمْ مُّؤْصَدَةٌ فِي عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ (الحمرة) پھر فرمایا: گزشتہ خطبہ میں میں نے اس امر کی وضاحت کی تھی کہ صفات باری تعالیٰ عفو اورستاری سے جب دل عاری ہو جاتے ہیں اور انسان ان صفات کو بھلا کر ان سے روگردانی کرتے ہیں تو بہت سی بد صفات ان کی جگہ آکر دلوں میں بیٹھ جاتی ہیں اور پھر انسانی اعمال میں داخل ہو کر تمام سوسائٹی میں ہیبت پھیلا دیتی ہیں۔ بد صفات بھی آگے بچے دیتی ہیں ۔ ایک صفت سے پھر ایک اور بدصفت پیدا ہوتی چلی جاتی ہے اور ساری سوسائٹی مکروہات سے بھر جاتی ہے۔ میں نے گزشتہ خطبہ میں یہ بھی بتایا تھا کہ جب یہ بیماریاں فرد سے خاندانوں اور خاندانوں سے معاشروں میں تبدیل ہوتی ہیں اور پھر قومی بیماریاں بن جاتی ہیں اور بڑھ کر بین الاقوامی صورت