خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 703
خطبات طاہر جلد ۳ 703 خطبه جمعه ۳۰ رنومبر ۱۹۸۴ء مٹانے کی کوشش کرے گی تو لازماً کلمہ اس دنیا کو ہلاک کر دے گا۔ آج کلمہ کی طاقت کا غیر توحیدی طاقتوں سے مقابلہ ہو گیا ہے۔ آج قوم ننگی ہو کر اور کھل کر سامنے آگئی ہے کہ ان کے مدعا اور مقاصد کیا صلى الله تھے؟ اسلام کی تاریخ کا یہ سب سے دردناک دور ہے کہ اسلام کے نام پر اسلام کے دشمنوں کی تاریخ دہرائی جارہی ہے۔ ایک وہ دور تھا تھا کلمہ طیبہ مٹانے کا جب آنحضرت ﷺ عروس نے دع دعوی فرمایا اور کلمہ کی حفاظت کرنے والے مکہ کی گلیوں میں گھسیٹے گئے ۔ ان پر ایسے ایسے مظالم ہوئے کہ ان کا ذکر پڑھنے سے ہی انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا وقت یاد کریں کہ کس طرح کلمہ کے جرم میں ان کو مکہ کی سنگلاخ زمینوں پر اس طرح گھسیٹا جاتا تھا جس طرح ایک مرے ہوئے کتے کو ٹانگوں میں رسی ڈال کر بچے گھسیٹتے ہیں۔ ان کو اور بعض اور غلاموں کو تپتے ہوئے صحراؤں میں جب کہ درجہ حرارت ۱۴۰ درجہ پہنچ جایا کرتا تھا ، تپتی ریت پر لٹا کر پھر گرم پتھر کی سلیں ان کی چھاتیوں پر رکھی جاتی تھیں اور کہا جاتا تھا کہ اب بھی تو بہ کرو گے کہ نہیں کلمہ طیبہ سے؟ اور راوی بیان کرتے ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ اس حالت میں بے ہوش ہوا کرتے تھے کہ اسهدان الا اله الا الليك آواز ان کی بلند ہو رہی ہوتی تھی آخری وقت تک اور جب ہوش آتی تھی تو پہلا کلمہ خود بخودمنہ سے نکلتا تھا اسهدان الا اله الا الله محمدا رسول الله۔ کیسا بد بختی کا زمانہ ہے کہ وہ دور جس میں دشمن اسلام نے کلمہ کو مٹانے کا فیصلہ کیا اور اس راہ میں انتہائی مظالم اختیار کئے وہ محمد مصطفی ﷺ کے دشمنوں کا دور اور ان کا کردار آج کے مسلمانوں نے اپنا بنانا شروع کر دیا ہے اور سارے پاکستان کی مساجد میں یہ اعلان ہو رہے ہیں کہ ہم احمدیوں کی مساجد سے ان کے درو دیوار سے کلمہ مٹا کر چھوڑیں گے اور حکومت کے نمائندے ، میرے پاس تصویریں ہیں بے شمار ایسی پڑی ہوئی وہ سیڑھیوں پر چڑھ چڑھ کر، دیواروں پر چڑھ چڑھ کے کلمہ پر سیاہی پھیر رہے ہیں۔ کوئی حیا نہیں، کوئی خوف نہیں خدا کا کچھ پتا نہیں کہ وہ اپنی کیا تصویر بنارہے ہیں۔ ایک بات بہر حال آخری اور یقینی ہے کہ جماعت احمد یہ کلمہ کی حفاظت میں جان دے گی اور ہرگز کسی قیمت پر اس بات کو قبول نہیں کرے گی۔ آمر ہو یا غیر آمر، ایک دنیا کی طاقت ہو یا ساری دنیا کی طاقتیں ہوں، ہرگز کوئی احمدی کسی آمر کی کوئی ایسی بات قبول نہیں کرے گا جو دین کے اصولوں پر حملہ آور ہو رہی ہو اور کلمہ طیبہ تو دین کی جان ہے اصول تو دوسری باتیں ہیں یہ تو وہ مرکزی حصہ ہے جس