خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 665 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 665

خطبات طاہر جلد ۳ 665 خطبه جمعه ۱۶ نومبر ۱۹۸۴ء جن آیات کی میں نے تلاوت آپ کے سامنے کی ہے اس میں اسی مضمون کو دوحصوں میں بیان فرمایا گیا ہے۔ آغاز میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ بھوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّه وہی خدا ہے جس نے محمد مصطفی یا کو رسول بنا کر بھیجا ہدایت اور دین حق کے ساتھ کے ساتھ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُله تا کہ اس دین کو بھی صلى عروسه ساری دنیا پر غالب کر دے اور محمد مصطفی ﷺ کو بھی ساری دنیا پر غالب کر دے۔ یہ کیسے ہوگا ! اس کی صلى الله آگے دو تصویر میں کھینچی گئی ہیں۔ ایک پہلا جلوہ اسلام کا جس میں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ اپنے ابتدائی ساتھیوں کے ساتھ موجود تھے۔ یہ وہ جلالی شان تھی جس میں بڑی تیزی کے ساتھ اسلام نے پھیلنا تھا اور ایک دوسرا جلوہ بھی یہاں بیان ہے اور پہلا جلوہ تو تو رات کے حوالے سے ہے اور دوسرا جلوہ انجیل کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے یعنی محمدی شان کو تو تو رات کے حوالے سے بیان کیا گیا اور حضرت اقدس محمد مصطفی علیل ہی کی احمدی شان کو مسیح کی زبان سے بیان کیا گیا گو یا مسیح کے زمانہ میں اس شان نے ظاہر ہونا تھا۔ چنانچہ گزشتہ علما اور مفسرین بھی اس آیت کی تفسیر میں یہی لکھتے چلے آئے کہ یہ اظہار حق جس کا وعدہ کیا گیا ہے یہ حضرت مسیح کے نزول کے وقت پوری شان سے دنیا کے سامنے ظہور پذیر ہوگا۔ صلى الله چنانچہ یہ جماعت احمد یہ ہی ہے جس کا یہاں ذکر ہے اور ان آیات میں جو نقشہ ہے وہ یہ ہے کہ دیکھو ان کی مثال جو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے دوبارہ اللہ تعالیٰ کے دین کی خدمت پر مامور ہونگے یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ کے وہ غلام جو آخرین کے دور میں ظاہر ہونے والے ہیں ان کی علی کیفیت ایسی ہوگی کہ جیسے روئیدگی زمین سے پھوٹے اور پھر وہ روئیدگی اپنی کونپلوں کو طاقت دے اور وہ کونپلیں پھر مضبوط ہو جائیں فَاسْتَوى عَلَى سُوقِہ اور پھر اپنے تنے پر مضبوطی اور شان کے ساتھ قائم ہو جائیں ۔ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ جو بونے والے ہیں بیچ وہ تو اس کو دیکھ کر بہت ہی خوشی کا اظہار کریں ، ان کے دل خوش ہو جا ئیں لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ لیکن منکرین اور کفار ن اور کفار کے دل غیظ و غضب سے بھر جائیں ۔ یہ اتنا واضح نقشہ ہے، غیظ و غضب کی وجہ بیان فرمادی گئی اور روئیدگی کی مثال ایسے پیار اور ایسی عمدگی کے ساتھ بیان کی گئی ہے کہ آپ اگر اس پر غور کریں تو حیرت ہوتی ہے کہ کس شان کے ساتھ یہ جماعت احمد یہ کے اوپر پوری اترتی ہے۔